بلاک چین اور کرپٹو انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اور اب دنیا کے بڑے مالیاتی ادارے بھی اس تبدیلی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں سٹی گروپ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2030 تک ٹوکنائزڈ اثاثوں (Tokenized Assets) کی مارکیٹ 8.2 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

ٹوکنائزیشن دراصل ایک ایسا عمل ہے جس میں حقیقی دنیا کے اثاثوں، جیسے اسٹاکس، بانڈز، پراپرٹی اور دیگر مالیاتی مصنوعات کو بلاک چین پر ڈیجیٹل شکل میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے سرمایہ کاروں کے لیے خرید و فروخت آسان، تیز اور زیادہ شفاف ہو جاتی ہے۔

سٹی گروپ کے مطابق، اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو یہ مارکیٹ کم از کم 5.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ مضبوط اپنانے کی صورت میں 8 ٹریلین ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت ٹوکنائزڈ اثاثوں کی مجموعی مالیت 43 ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے۔ صرف گزشتہ چھ ماہ کے دوران اس شعبے میں تقریباً 37 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ٹوکنائزڈ فنڈز اس مارکیٹ کا سب سے بڑا حصہ ہیں اور مجموعی مارکیٹ ویلیو کا تقریباً 80 فیصد رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ کموڈیٹیز اور ٹوکنائزڈ اسٹاکس بھی تیزی سے توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

بڑی مالیاتی کمپنیاں اور ادارے بھی بلاک چین ٹیکنالوجی کو اپنانے میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جیسے جیسے ریگولیٹری فریم ورک مزید واضح ہوگا، مزید بینک، ایکسچینجز اور سرمایہ کاری کے ادارے ٹوکنائزیشن کو اپنی خدمات کا حصہ بنائیں گے۔

کرپٹو مارکیٹ کے لیے یہ خبر خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ حقیقی دنیا کے اثاثوں کے بلاک چین پر آنے سے لیکویڈیٹی میں اضافہ ہوگا، نئے سرمایہ کار شامل ہوں گے اور بلاک چین کا استعمال پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہو جائے گا۔

اگر سٹی گروپ کی یہ پیش گوئی درست ثابت ہوتی ہے تو آنے والے چند سال بلاک چین اور کرپٹو انڈسٹری کی تاریخ کے سب سے اہم سال ثابت ہو سکتے ہیں۔

#SICryptoNews $BTC

BTC
BTCUSDT
64,800
-2.60%