کرپٹو مارکیٹ میں اس ہفتے ایک نئی بحث نے جنم لیا جب مائیکل سیلر نے اپنی کمپنی Strategy کی جانب سے بٹ کوائن فروخت کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ کمپنی کی جانب سے بٹ کوائن فروخت کرنے کی خبر سامنے آنے کے بعد مارکیٹ میں کافی ہلچل دیکھی گئی اور سرمایہ کاروں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے۔
جون کے آغاز میں Strategy نے انکشاف کیا تھا کہ اس نے مئی کے آخری دنوں میں 32 بٹ کوائن تقریباً 2.5 ملین ڈالر میں فروخت کیے۔ خبر سامنے آنے کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً 15 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ کمپنی کے شیئرز بھی دباؤ کا شکار رہے۔
BTC Prague کانفرنس کے دوران مائیکل سیلر نے تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ انفرادی سرمایہ کاروں کو بٹ کوائن نہ بیچنے کا مشورہ دیا تھا، لیکن کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ کمپنی خود کبھی بٹ کوائن فروخت نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق Strategy نے گزشتہ کئی برسوں سے اپنی مالی دستاویزات میں واضح طور پر بتایا ہوا ہے کہ ضرورت پڑنے پر بٹ کوائن فروخت کیا جا سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فروخت کیے گئے بٹ کوائن کمپنی کے خریداری نرخ سے زیادہ قیمت پر فروخت ہوئے، جس سے کمپنی کو معمولی منافع بھی حاصل ہوا۔ تاہم اس فیصلے نے کرپٹو کمیونٹی میں بحث چھیڑ دی۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس فروخت نے مارکیٹ پر منفی اثر ڈالا جبکہ دیگر کا ماننا ہے کہ اس دوران مصنوعی ذہانت یعنی AI سے متعلق اسٹاکس میں بڑھتی دلچسپی نے بھی سرمایہ کاروں کی توجہ بٹ کوائن سے ہٹا دی۔
تنقید کے باوجود Strategy نے بٹ کوائن پر اپنا اعتماد برقرار رکھا ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں مزید 1,550 بٹ کوائن خریدے ہیں، جس کے بعد اس کے پاس موجود بٹ کوائن کی تعداد 845,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔
یہ صورتحال ایک بار پھر اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بڑے اداروں کے فیصلے کرپٹو مارکیٹ پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔ اب سرمایہ کاروں کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آنے والے دنوں میں بٹ کوائن کی قیمت اور مارکیٹ کا مجموعی رجحان کس سمت جاتا ہے۔