پاکستان نے سات سالہ طویل پابندی کے بعد ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے بینکوں کو کرپٹو کرنسی سروس پرووائڈرز کو خدمات فراہم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس اہم فیصلے کے مطابق، اب بینک اور مالیاتی ریگولیٹری ادارے کرپٹو سے وابستہ اداروں کے ساتھ تعاون کر سکیں گے، جو پاکستان کے فنانشل سیکٹر کے لیے ایک نئی شروعات ہے۔

تاہم، اسٹیٹ بینک کے قواعد کے مطابق بینک خود براہِ راست کرپٹو اثاثوں کی خرید و فروخت یا انہیں ہولڈ (Hold) نہیں کر سکیں گے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک میں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے ایک شفاف فریم ورک بنانا اور صارفین کو قانونی دائرہ کار میں رہ کر خدمات فراہم کرنا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے مارکیٹ میں پوزیٹو سینٹیمنٹ (Positive Sentiment) پیدا ہوگا اور لانگ ٹرم میں ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔ اگرچہ مکمل ریگولیشن میں ابھی وقت لگ سکتا ہے، لیکن بینکوں کی شمولیت بلاک چین ٹیکنالوجی کی قبولیت کی جانب ایک بڑا سنگِ میل ثابت ہوگی۔

#StateBankOfPakistan

#USMilitaryToBlockadeStraitOfHormuz #USDCFreezeDebate #CryptoMarketRebounds #GoldmanSachsFilesforBitcoinIncomeETF