آسٹریلیا نے یکم جولائی سے کرپٹو سے متعلق ایک اہم قانون نافذ کر دیا ہے جسے Crypto Travel Rule کہا جا رہا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت اب وہ تمام صارفین جو رجسٹرڈ کرپٹو ایکسچینجز کے ذریعے ڈیجیٹل اثاثے بھیجتے یا وصول کرتے ہیں، انہیں پہلے سے زیادہ معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔
اس قانون کے مطابق ایکسچینجز کو بھیجنے والے، وصول کرنے والے اور متعلقہ والٹ کی بنیادی معلومات جمع کرنی ہوں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد منی لانڈرنگ، فراڈ اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کو روکنا ہے تاکہ کرپٹو مارکیٹ مزید محفوظ اور شفاف بن سکے۔
اچھی بات یہ ہے کہ اگر کوئی صارف اپنا Self-Custody Wallet استعمال کرتا ہے تو اس پر پابندی نہیں لگائی گئی۔ تاہم اگر اس والٹ کا لین دین کسی رجسٹرڈ ایکسچینج کے ذریعے ہوگا تو اضافی تصدیقی مراحل سے گزرنا پڑے گا۔
اس قانون کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ چھوٹے اور بڑے دونوں قسم کے ٹرانزیکشنز پر ایک جیسے اصول لاگو ہوں گے۔ یعنی رقم کم ہو یا زیادہ، ایکسچینج ضروری معلومات حاصل کرے گا۔
سوشل میڈیا اور کرپٹو کمیونٹی میں اس فیصلے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ صارفین کا خیال ہے کہ اس سے پرائیویسی متاثر ہوگی، جبکہ دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ ریگولیٹڈ ایکسچینجز پہلے بھی مکمل طور پر گمنام نہیں تھے، اس لیے یہ تبدیلی زیادہ حیران کن نہیں۔
ماہرین کے مطابق آسٹریلیا صرف ٹریول رول تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مستقبل میں کرپٹو کمپنیوں کے لیے مزید لائسنسنگ اور ریگولیشن بھی متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔ اس سے مارکیٹ میں اعتماد تو بڑھے گا لیکن صارفین کے لیے قواعد بھی سخت ہوں گے۔
کرپٹو سرمایہ کاروں پر کیا اثر پڑے گا؟
اگر آپ آسٹریلیا میں کسی ریگولیٹڈ کرپٹو ایکسچینج کو استعمال کرتے ہیں تو اب ڈپازٹ اور وِڈرا کے دوران آپ سے اضافی معلومات طلب کی جا سکتی ہیں۔ اس سے ٹرانزیکشن مکمل ہونے میں کچھ زیادہ وقت لگ سکتا ہے، لیکن حکومت کے مطابق اس اقدام سے مالی جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
آسٹریلیا نے یکم جولائی سے کرپٹو سے متعلق ایک اہم قانون نافذ کر دیا ہے جسے Crypto Travel Rule کہا جا رہا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت اب وہ تمام صارفین جو رجسٹرڈ کرپٹو ایکسچینجز کے ذریعے ڈیجیٹل اثاثے بھیجتے یا وصول کرتے ہیں، انہیں پہلے سے زیادہ معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔
اس قانون کے مطابق ایکسچینجز کو بھیجنے والے، وصول کرنے والے اور متعلقہ والٹ کی بنیادی معلومات جمع کرنی ہوں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد منی لانڈرنگ، فراڈ اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کو روکنا ہے تاکہ کرپٹو مارکیٹ مزید محفوظ اور شفاف بن سکے۔
اچھی بات یہ ہے کہ اگر کوئی صارف اپنا Self-Custody Wallet استعمال کرتا ہے تو اس پر پابندی نہیں لگائی گئی۔ تاہم اگر اس والٹ کا لین دین کسی رجسٹرڈ ایکسچینج کے ذریعے ہوگا تو اضافی تصدیقی مراحل سے گزرنا پڑے گا۔
اس قانون کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ چھوٹے اور بڑے دونوں قسم کے ٹرانزیکشنز پر ایک جیسے اصول لاگو ہوں گے۔ یعنی رقم کم ہو یا زیادہ، ایکسچینج ضروری معلومات حاصل کرے گا۔
سوشل میڈیا اور کرپٹو کمیونٹی میں اس فیصلے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ صارفین کا خیال ہے کہ اس سے پرائیویسی متاثر ہوگی، جبکہ دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ ریگولیٹڈ ایکسچینجز پہلے بھی مکمل طور پر گمنام نہیں تھے، اس لیے یہ تبدیلی زیادہ حیران کن نہیں۔
ماہرین کے مطابق آسٹریلیا صرف ٹریول رول تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مستقبل میں کرپٹو کمپنیوں کے لیے مزید لائسنسنگ اور ریگولیشن بھی متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔ اس سے مارکیٹ میں اعتماد تو بڑھے گا لیکن صارفین کے لیے قواعد بھی سخت ہوں گے۔
کرپٹو سرمایہ کاروں پر کیا اثر پڑے گا؟
اگر آپ آسٹریلیا میں کسی ریگولیٹڈ کرپٹو ایکسچینج کو استعمال کرتے ہیں تو اب ڈپازٹ اور وِڈرا کے دوران آپ سے اضافی معلومات طلب کی جا سکتی ہیں۔ اس سے ٹرانزیکشن مکمل ہونے میں کچھ زیادہ وقت لگ سکتا ہے، لیکن حکومت کے مطابق اس اقدام سے مالی جرائم کی روک تھام میں مددملے گی۔
#SICryptoNews #AustraliaCrypto $BTC $SOL $LINK