$BTC 🔥🚨 بریکنگ: امریکہ نے ہرمز کے کردار کو کم سمجھا دیا — اب وہ مشرقِ وسطیٰ کے تیل پر انحصار نہیں کرتا؟ چین ہو سکتا ہے سب سے زیادہ متاثر! 🇺🇸🇨🇳🇮🇷💥⚡

حال ہی میں ریوٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی حکومت نے وینیزویلا میں تیل کی تلاش، پیداوار اور برآمد کے لیے نئی لائسنسیں جاری کی ہیں، جس سے امریکی ریفائنرز وینیزویلین خام تیل امپورٹ کر سکیں گے اور واشنگٹن اور کاراکاس کے درمیان توانائی کے تعلقات دوبارہ مضبوط ہو رہے ہیں۔ �

Reuters

یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ اب امریکہ کا مشرقِ وسطیٰ کے تیل پر براہِ راست انحصار کم ہوتا جا رہا ہے — جس میں خلیجِ فارس کے راستے سے آنے والی روایتی سپلائی شامل ہے۔ اس پالیسی کے تحت بڑی عالمی تیل کمپنیاں وینیزویلا میں کام اور سرمایہ کاری دوبارہ شروع کر رہی ہیں، اور ریفائنرز نے مارچ میں وینیزویلین خام تیل کی بڑی مقدار درآمد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ �

Reuters

لیکن ایک اہم حقیقت بدستور برقرار ہے:

🌍 **ہر روز دنیا کے تقریباً 20% تیل کی سپلائی بساطِ سمندر کے ذریعے � اسٹریٹ آف ہرمز سے گزرتی ہے — لہٰذا یہ راستہ عالمی توانائی مارکیٹس کے لیے انتہائی حساس ہے۔ اگرچہ امریکہ کی اپنی توانائی ضروریات میں تنوع آیا ہے، مگر بڑے حصے کے لیے عالمی تیل مارکیٹ اب بھی اسی راستے پر منحصر ہے۔

Investing.com

یہی وجہ ہے کہ اگر ایران یا کوئی اور فریق اس پانی کے راستے میں خلل ڈال دے تو:

🔹 تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔ �

🔹 گلوبل سپلائی چین میں رکاوٹیں آ سکتی ہیں۔

🔹 خاص طور پر ایشیا جیسے بڑے تیل درآمد کنندگان — خصوصاً چین، بھارت، جاپان، اور جنوبی کوریا — سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، کیونکہ ان کی زیادہ تر توانائی سپلائی اسی سمندری راستے سے آتی ہے۔ �

Business Recorder

The Asia Live

📌 سادہ الفاظ میں:

✔️ امریکہ نے اپنے اندرونی توانائی ذرائع میں تنوع پیدا کر لیا ہے،

✔️ لیکن عالمی توانائی منڈی کے لیے ہرمز کی اہمیت ویسی ہی باقی ہے۔

✔️ اگر اس راستے میں بڑی رکاوٹ آ جائے تو عالمی معاشی اثرات — خاص طور پر ایشیا میں — بہت سخت ہو سکتے ہیں۔

اس لیے دنیا کے بڑے طاقتیں، بشمول امریکہ، چین اور یورپی ممالک، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر نظریں جمائے ہوئے ہیں — نہ صرف اپنے توانائی کے مفادات بلکہ عالمی تجارت کی سلامتی کے لیے بھی۔#Hashing 🔐

#BlockchainTechnology

#CryptoEducation

#Bitcoin

#Shibalnu A256