وال اسٹریٹ جنرل کی تازہ ترین رپورٹ نے سفارتی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے! جنیوا میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں امریکہ نے ایران کے سامنے ایسی شرائط رکھ دی ہیں جنہیں ماہرین "انتہائی سخت اور یکطرفہ" قرار دے رہے ہیں۔

کیا ایران ان مطالبات کو تسلیم کرے گا یا خطے میں کشیدگی کا نیا رخ سامنے آئے گا؟ 🧐⚖️

🚨 امریکہ کے 5 بڑے اور کڑے مطالبات:

1️⃣ ایٹمی مراکز کی مکمل بندی: فردو (Fordow)، نطنز (Natanz) اور اصفہان کے ایٹمی ٹیکنالوجی سینٹرز کو مکمل طور پر بند کرنے کا مطالبہ۔

2️⃣ یورینیم کی منتقلی: ایران کے پاس موجود افزودہ شدہ یورینیم کا تمام ذخیرہ امریکہ کے حوالے کرنے کی شرط۔

3️⃣ پابندیوں کی کوئی میعاد نہیں: سابقہ معاہدے (JCPOA) کے برعکس، ان نئی پابندیوں اور شرائط پر کوئی وقت کی حد (Sunset Clauses) نہیں ہوگی۔ یہ پابندیاں ہمیشہ کے لیے ہوں گی۔

4️⃣ زیرو پرسنٹ افزودگی: ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہوگی، صرف تہران ریسرچ ری ایکٹر کو برقرار رکھنے کی رعایت دی جا سکتی ہے۔

5️⃣ مشروط ریلیف: پابندیوں میں نرمی فوری طور پر نہیں بلکہ صرف اس وقت ہوگی جب امریکہ مکمل طور پر "تصدیق" کر لے گا کہ ایران نے تمام شرائط مان لی ہیں۔

⚠️ تجزیہ: کیا یہ معاہدہ ممکن ہے؟

یہ شرائط اتنی سخت ہیں کہ ایران کے لیے انہیں قبول کرنا اپنی ایٹمی پالیسی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے مترادف ہوگا۔ ایران یقیناً اس کے بدلے تمام معاشی پابندیوں کا مکمل خاتمہ چاہے گا، لیکن موجودہ حالات میں یہ "ڈیڈ لاک" ٹوٹتا نظر نہیں آتا۔ 📉 نظامِ حکومت کے لیے یہ ایک بڑا سیاسی چیلنج بن چکا ہے۔

#Iran #USA. #NuclearTalks #Geneva #WSJ #BreakingNew #WorldPolitic #UrduNews

$TRX $DOT