شوہر مریدی 😁
مجھے یاد ہے کہ بچپن میں امی مجھے منگھو پیر کے دربار لے جایا کرتی تھیں۔ وہاں ایک پانی کا چشمہ ہوتا تھا، اور وہ پانی غیر معمولی حد تک گرم ہوتا تھا۔ امی مجھے اسی پانی سے نہلاتی تھیں۔ میری کم عمری اور شدید ایگزیما کی کیفیت میں وہ پانی میرے لیے ناقابلِ برداشت اذیت بن جاتا تھا۔ جسم جلتا تھا، سانس گھٹتی تھی، اور اس چشمے کا اندھیرا ایک عجیب سا خوف پیدا کر دیتا تھا۔ جب وہ گرم پانی سے بھرا ہوا ڈبہ میرے سر پر ڈالا جاتا، تو مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے سانس رک جائے گا۔ شاید اسی وجہ سے آج بھی اگر مجھ پر اچانک زیادہ پانی ڈالا جائے تو میں ڈر جاتی ہوں۔ اس دربار کی طرف جاتے ہوئے میں پورا راستہ اسی خوف میں مبتلا رہتی تھی، اور امی بےچاری بار بار مجھے تسلی دیتی رہتی تھیں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
یہ سلسلہ صرف ایک جگہ تک محدود نہیں تھا۔ امی ہر دربار پر جا کر دعا مانگتیں، اور واپسی پر پھولوں کی پتیاں اٹھا کر مجھے کھلاتیں کہ شاید اس سے شفا مل جائے۔
ایک واقعہ اور بھی ہے جو آج تک ذہن میں نقش ہے۔ کسی نے ابو جی کو بتایا کہ ایک مجذوب ہے جو لوگوں کو بڑی مقدار میں پانی پلاتا ہے، یہاں تک کہ انسان کا جسم برداشت کی حد تک بھر جاتا ہے، اور پھر وہ ڈنڈے مار کر اسے “آزماتا” ہے۔ کہا جاتا تھا کہ اگر انسان یہ سب برداشت کر لے تو اس کی مراد پوری ہو جاتی ہے۔
ابو جی مزاجاً ایک منطقی انسان تھے، ایسے دعووں پر آسانی سے یقین کرنے والے نہیں تھے۔ لیکن ایک باپ کی بے بسی کبھی کبھی اس کے یقین سے بڑی ہو جاتی ہے۔ میں مسلسل بیمار رہتی تھی، اور شاید اسی بے بسی میں انہوں نے سوچا کہ اگر ایک بار یہ سب سہہ لینے سے بیٹی کو شفا مل سکتی ہے تو کیوں نہ آزما لیا جائے۔ اور انہوں نے واقعی ایسا کیا۔ اس میں ڈنڈے میرے ابو نے کھائے، میں نے نہیں۔
انہوں نے یہ سب اس امید میں برداشت کیا کہ شاید اس سے ان کی بیٹی ٹھیک ہو جائے۔
یہ سب یاد کرتے ہوئے آج یہ بات شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ انسان جب بے بس ہوتا ہے تو وہ امید کے ہر دروازے پر دستک دیتا ہے، چاہے وہ دروازہ کتنا ہی غیرمعقول کیوں نہ لگے۔
بچپن سے ایک اور منظر بھی بار بار آنکھوں کے سامنے آتا رہا۔ جیسے ہی کسی گھر میں “بابا جی سرکار” کی آمد کی خبر ہوتی، ماحول یکسر بدل جاتا۔ نئی چادریں بچھائی جاتیں، خاص برتن نکالے جاتے، اور پھر ایک غیر معمولی سی تعظیم کے ساتھ استقبال ہوتا۔ لوگ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جاتے، قدموں میں بیٹھ جاتے، بعض اوقات گفتگو کے دوران رونے لگتے۔ ایک بچے کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری تھا کہ آخر ایک انسان کے سامنے یہ سب کیوں کیا جا رہا ہے؟
وقت کے ساتھ جب سمجھ بڑھی تو ایک اور پہلو سامنے آیا۔ یہی دربار، یہی شخصیات جن کے گرد غیر معمولی تقدس کا ہالہ قائم کیا جاتا ہے، ان کی اپنی زندگیاں بھی عام انسانوں ہی کی طرح ہوتی ہیں…وہی مسائل، وہی الجھنیں، وہی کمی بیشی۔
اس مشاہدے نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا: اگر کسی کے پاس واقعی کوئی خاص روحانی قوت ہے تو اس کا پہلا اثر اس کی اپنی زندگی میں کیوں نظر نہیں آتا؟
اس کے باوجود، ہمارے معاشرے میں گھریلو تنازعات، خصوصاً میاں بیوی کے اختلافات، اکثر کسی تیسرے شخص جیسا کہ پیر یا مولوی کے سپرد کر دیے جاتے ہیں۔ فیصلے ان سے کروائے جاتے ہیں، دعاؤں کی درخواست ان سے کی جاتی ہے، اور یوں ایک ایسا اختیار انہیں دے دیا جاتا ہے جو دراصل دو افراد کے باہمی تعلق کا حصہ ہونا چاہیے۔
یہاں ایک بنیادی نکتہ نظر اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی رشتہ اپنی اصل میں خلوص، محبت اور ذمہ داری پر قائم ہو، تو اس میں سب سے زیادہ خیرخواہی اسی شخص کی ہو سکتی ہے جو اس رشتے کا حصہ ہے۔ میاں اور بیوی کے درمیان جو قربت، جو فہم اور جو نیت ہوتی ہے، وہ کسی تیسرے شخص کے لیے ممکن نہیں۔
شاید اسی لیے یہ بات دل کے قریب لگتی ہے کہ اگر کسی کو “پیر” کہا جا سکتا ہے تو وہ انسان آپ کا اپنا شریکِ حیات ہو سکتا ہے۔ وہی جو آپ کی کمزوریوں کو جانتا ہے، آپ کی پریشانی کو سمجھتا ہے، اور آپ کے لیے دل سے دعا کرتا ہے۔ اس کی ایک سچی دعا، ایک خالص نیت، کسی بھی رسمی عمل سے زیادہ اثر رکھ سکتی ہے۔
مسئلہ شاید یہ نہیں کہ لوگ رہنمائی کیوں چاہتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اسے کہاں تلاش کرتے ہیں۔ جب رہنمائی کا تصور شخصیات سے جڑ جائے اور اصول پیچھے رہ جائیں، تو اندھی عقیدت جنم لیتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تعلقات کی اصل قدر کو پہچانیں۔ اپنے قریب کے رشتوں میں جو سچائی اور خلوص موجود ہے، اسے اہمیت دیں۔ کیونکہ آخرکار، انسان کے لیے سب سے زیادہ مخلص وہی ہوتا ہے جو اس کے ساتھ جڑا ہوتا ہے بغیر کسی دعوے، بغیر کسی لقب کے۔
اور ذاتی طور پر، میں تو اب یہ بات سیدھے سادے انداز میں کہہ دیتی ہوں کہ میری زندگی میں میرا پیر میرا اپنا husband ہی ہے۔ اسی نے ہمیشہ مجھے سیدھا راستہ دکھایا ہے، اور اس سے بڑھ کر میں نے کبھی کسی کو اپنا خیرخواہ نہیں پایا۔ مجھ سے اتنی محبت کوئی اور شخص نہیں کر سکتا، تو اس میں کیا مضائقہ ہے کہ میں اسی کی بات کو ترجیح دوں۔
میری زندگی میں جب بھی کوئی مسئلہ ہوتا ہے، میں انہی سے دعا کے لیے کہتی ہوں، اور وہ حل ہو جاتا ہے۔ تو ہاں، پیر مرشد تو کوئی بھی ہو سکتا ہے، مگر اگر وہ آپ کا اپنا پارٹنر ہو تو کیا بات ہے ❤️ بلکہ جب کوئی یہ کہتا ہے کہ تم تو اپنے بندے کا کچھ زیادہ ہی کرتی ہو، اتنا بھی پازیٹو نہیں سوچتے، تو میں مسکرا کر کہتی ہوں: شکریہ 😁 I’ll take it as a compliment
اور یہی اگر کوئی زید سے کہے کہ “تو تے تھلے لگیاں ایں” تو وہ بھی اثبات میں سر ہلا دیتے ہیں 😄
