گوادر پورٹ پر سعودی عرب کی 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور عمان کی جانب سے حالیہ سفارتی و معاشی تعاون کی یقین دہانی خطے کی جیو پولیٹکس میں ایک بڑا ٹرننگ پوائنٹ ہے۔

اس صورتحال کا ایک جامع پوسٹ مارٹم درج ذیل ہے

سی پیک سے جی پیک کی طرف سفر

پہلے گوادر کو صرف چینی منصوبے کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ سعودی عرب کی انٹری نے اسے ملٹی نیشنل اکنامک ہب بنا دیا ہے۔ اب یہ صرف چین کی ضرورت نہیں رہا، بلکہ خلیجی ممالک کی توانائی کی منڈیوں کے لیے بھی ایک اہم گیٹ وے بن چکا ہے۔

سلطنت عمان اور گوادر کا رشتہ صدیوں پرانا ہے (1958 تک گوادر عمان کا حصہ تھا)۔ عمان کی سپورٹ کے دو اہم پہلو ہیں

عمان کی بندرگاہیں (جیسے دقم Port of Duqm) گوادر کے سامنے واقع ہیں۔ دونوں کے درمیان تعاون سے بحیرہ عرب میں ایک مضبوط بحری مثلث بنے گا۔

عمان کی غیر جانبدارانہ اور امن پسند خارجہ پالیسی گوادر کے منصوبے کو عالمی سطح پر مزید "قبولیت" فراہم کرے گی۔

سعودی عرب کی 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ آرامکو کی آئل ریفائنری پر مشتمل ہے۔

فائدہ اس سے پاکستان کی درآمدی تیل پر انحصار کم ہوگا اور گوادر سے وسطی ایشیا تک تیل کی سپلائی سستی اور تیز ہو جائے گی۔

یہ انٹری اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ مغربی دنیا کو پیغام ہے کہ گوادر صرف ایک فوجی اڈہ نہیں بلکہ ایک عالمی معاشی مرکز بن رہا ہے۔

چین کے بعد سعودی عرب اور عمان کی شمولیت سے پاکستان کو سیاسی فائدہ ہوا ہے

اب گوادر پر کسی ایک ملک کی اجارہ داری کا تاثر ختم ہو گیا ہے۔

جب اتنے بڑے پلیئرز (چین، سعودیہ، عمان) ایک ہی جگہ اسٹیک ہولڈر ہوں گے، تو عالمی سطح پر اس منصوبے کے خلاف سازشیں کرنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ کسی بھی نقصان کی صورت میں ان سب کا مفاد متاثر ہوگا۔

گوادر اب ایک گلوبل گیم بن چکا ہے۔ عمان اور سعودی عرب کا ساتھ آنا اس بات کی دلیل ہے کہ مستقبل کی معیشت کا راستہ گوادر سے ہی گزرتا ہے۔ اگر پاکستان اس موقع کا صحیح فائدہ اٹھا لے، تو یہ خطے کی تقدیر بدلنے والا قدم ثابت ہوگا

#balochistanPakistan

$ETH $BNB $XRP