کرپٹو مارکیٹ میں ایک بار پھر بٹ کوائن توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ تازہ آن چین ڈیٹا کے مطابق ایکسچینجز پر موجود بٹ کوائن کی مقدار کم ہو کر تقریباً 2.56 ملین BTC رہ گئی ہے، جو 2020 کے بعد سب سے کم سطح سمجھی جا رہی ہے۔

یہ خبر اس لیے اہم ہے کیونکہ ایکسچینجز پر موجود بٹ کوائن کی مقدار اکثر مارکیٹ کے جذبات اور سرمایہ کاروں کے رویے کی عکاسی کرتی ہے۔ جب لوگ اپنے بٹ کوائن ایکسچینجز سے نکال کر ذاتی والٹس یا دیگر محفوظ پلیٹ فارمز پر منتقل کرتے ہیں تو عام طور پر یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ فوری فروخت کے بجائے طویل مدت کے لیے ہولڈ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ بارہ ماہ کے دوران تقریباً 4 لاکھ 40 ہزار بٹ کوائن ایکسچینجز سے نکل چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2025 اور 2026 میں سپلائی میں آنے والی یہ کمی حالیہ برسوں کی تیز ترین کمیوں میں سے ایک ہے۔

کرپٹو کمیونٹی کے ایک بڑے حصے کا خیال ہے کہ یہ صورتحال بٹ کوائن کے لیے مثبت ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ایکسچینجز پر فروخت کے لیے دستیاب بٹ کوائن کم ہو جاتے ہیں تو مارکیٹ میں سپلائی محدود ہو جاتی ہے۔ اگر اسی دوران طلب برقرار رہے یا بڑھ جائے تو قیمت اوپر جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

تاہم اس کہانی کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ضروری نہیں کہ تمام بٹ کوائن ذاتی والٹس میں منتقل ہو رہے ہوں۔ ممکن ہے ان میں سے بڑی مقدار ETFs، ادارہ جاتی والٹس یا OTC پلیٹ فارمز میں منتقل کی جا رہی ہو، جو روایتی ایکسچینج ڈیٹا میں نظر نہیں آتے۔

اسی دوران مائیکل سیلر کی کمپنی Strategy بھی مسلسل بٹ کوائن خرید رہی ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں مزید 1,587 BTC خریدے ہیں، جس کے بعد اس کے مجموعی ذخائر 846,842 BTC تک پہنچ گئے ہیں۔ ادارہ جاتی سطح پر جاری یہ خریداری بھی مارکیٹ کے اعتماد کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کر رہی ہے۔

مختصر طور پر دیکھا جائے تو ایکسچینجز پر بٹ کوائن کی کم ہوتی سپلائی اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ سرمایہ کار طویل مدت کے لیے پرامید ہیں۔ اگر طلب مضبوط رہی تو آنے والے مہینوں میں بٹ کوائن کی قیمت پر اس کے مثبت اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔

کرپٹو سرمایہ کاروں کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ آیا یہ سپلائی کی کمی بٹ کوائن کو نئی بلندیوں تک لے جا سکے گی یا نہیں

#SICryptoNews #bitcoin