جنگ پھیل گئی مظلوموں کی بستی میں،
ہر سمت دھواں تھا، ہر آنکھ میں پانی تھا،
گلیوں میں سناٹا چیخ رہا تھا،
اور فضا میں خوف کا راج پرانا تھا۔
ننھے ہاتھ لرزاں، دل سہما سہما،
ماں کی آغوش بھی محفوظ نہ رہی،
گولیوں کی آوازوں میں دب کر،
بچوں کی ہنسی کہیں کھو سی گئی۔
خون سے بھیگی مٹی چیخ اٹھی،
"کب آئے گا انصاف اس دھرتی پر؟"
مگر طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ،
سن کر بھی انجان بنے رہے اکثر۔
ٹوٹے گھروں کے ملبے تلے،
سپنوں کی لاشیں سو جاتی ہیں،
مظلوم کی آہیں آسمان تک جا کر،
خاموش دعاؤں میں ڈھل جاتی ہیں۔
پھر بھی امید کا چراغ جلتا ہے،
اندھیروں سے لڑنے کی ٹھان لی ہے،
کیونکہ ہر ظلم کی رات کے بعد،
امن ک
#ی صبح نے آنا ہی ہے۔