موبائل کا چسکا ۔۔۔
مردہ جیل پہنچ گیا ۔۔۔
فیصل آباد میں ایک حساس ادارے کے ملازم کو ق ت ل کر کے اس کی لا۔ ش جلا دی گئی تھی مقت و ل کی ناقابل پہچان لا ش کے پاس سے اس کا ادھ جلا شناختی کارڈ،تقریبا ساری جلی ہوئی وردی اور سروس کارڈ ملے تھے۔ پولیس نے اس ق ت ل کا مقدمہ نامعلوم ملزم کیخلاف درج کیا۔حساس ادارے کے اس ملازم کی باقیات کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔
اس اندھے ق ت ل کا سراغ لگانے کیلئے پولیس نے تفتیش شروع کی۔مقت و ل کے موبائل نمبرز سے سی ڈی آر وغیرہ نکلوایا گیا۔ مقت و ل کے نام پر چلنے والے پرانے دونوں نمبر بند تھے تاہم اس دوران پولیس کو اس بات نے چونکا دیا کہ وقوعہ کے صرف دو دن بعد ہی گوجرانوالہ میں مقت ول کے آئی ڈی کارڈ سے ایک نئی سم نکلوا کر ایکٹو کروائی گئی تھی۔ پولیس نے اس کلیو پر کام شروع کیا۔ گوجرانوالہ میں جس جگہ پر یہ نمبر ایکٹو تھا وہاں چھاپہ مارا گیا۔
یہ نمبر ایک گھر میں ایکٹو تھا۔ تاہم اس گھر کے مرکزی دروازے کو باہر سے تالا لگا ہوا تھا۔ پولیس کسی طرح اس گھر کے اندر پہنچی۔ اہلکاروں کی حیرانی کی انتہا نہ رہی جب حساس ادارے کا مردہ ملازم ان کے سامنے زندہ موجود تھا۔حساس ادارے کا مقت و ل ملازم زندہ ہے تو پھر جو لا ش ملی تھی وہ کس کی تھی؟چکر کچھ یوں تھا کہ ان ملازم صاحب نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے کر کچھ عرصہ قبل ہی دوسری شادی کی تھی۔ یہ اپنی اس نئی دنیا کو خوب بہتر طریقے سے انجوائے کرنا چاہتے تھے۔ ہنی مون وغیرہ کیلئے چھٹیاں اور لمبے اخراجات۔ کیسے مینیج ہو؟ سوچنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کے ملازم شخص ہیں۔ جمع پونجی کچھ خاص ہے نہیں۔ ادارے سے اچھی رقم ملے گی لیکن تب جب وہ ریٹائرڈ ہوں گے۔ یا تب جب ان کی دوران سروس اچانک وفات ہو جائے۔اسی غور و فکر میں انہیں یہ بھی پتہ چلا کہ دوران سروس وفات کی صورت میں ان کی بیوہ کو ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی زیادہ چوڑے واجبات اور مراعات ملیں گی۔لہذا انہوں نے اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ مل کر ایک پلان بنایا۔حساس ادارے کے ان ملازم صاحب نے ایک بس اسٹینڈ سے پیسے دینے کے لالچ میں ایک نشئی کو ساتھ لیا۔اسے ق ت ل کیا اور اس کی لا۔۔ ش جلا دی۔ اپنی جلی ہوئی یونیفارم بھی وہیں پھینکی۔شناختی کارڈ اور سروس کارڈ کو بھی تھوڑا سا جلایا اور لاش کے پاس پھینک دیا۔یہ کارڈز اس طرح جلائے گئے تھے کہ اس کا نام اور شناخت ظاہر رہے۔
مقت۔ و ل ملازم صاحب نے سرکاری اعزاز کے ساتھ اپنے آپ کو سپرد خاک کروایا اور گوجرانوالہ میں ایک مکان لے کر رہنا شروع کر دیا۔ ملازم صاحب نے گھر کے مرکزی دروازے کو باہر سے تالا لگوایا اور خود اندر آرام کیا کرتے تھے۔اس انتظار میں تھے کہ نئی بیگم کاغذی کارروائی وغیرہ پوری ہونے کے بعد ادارے سے لمبی رقم لائیں تو یہاں سے کہیں اور نکل جائیں۔ لیکن موبائل کے چسکے نے کام خراب کر دیا۔شاید یہ بھی انٹرنیٹ کے بغیر نہیں رہ سکتے ہوں گے۔ ویڈیوز دیکھتے ہوں گے یا فیس بک۔مجرم اپنا نشان چھوڑ جاتا ہے، مردہ" اب پولیس کی حراست می#ں ہے۔