جدید آدم ماضی سے بہت مختلف ہے، سائنس اور ٹکنالوجی نے بہت کچھ بدل دیا ہے لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جو آج بھی نہیں بدلی، مانی کی تلاش اور مستقبل کا خوف انسان ہمیشہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ آگے کیا ہوگا کبھی ستاروں کے علم کے ذریعے کبھی علم العداد سے یا کبھی کسی کو ہاتھ دکھا کر میکسیکن بریٹش فلوسفر ہے کیریسا ویلیس وہ کہتی ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس موڈن ورلڈ کا اوریکل آف ڈیلفی ہے اب اوریکل آف ڈیلفی ہم سب جانتے ہیں قدیم یونان کا ایک مندر تھا جہاں پر بادشاہ اپنی سلطنت کے معاملات کے لیے یا جنگ پر جانے سے پہلے یا پھر عام لوگ اپنی قسمت کا حال جاننے کے لیے اس مندر پر جایا کرتے تھے اور وہاں کی ہائی پریسٹس وہاں کی پجارن پتھیا اپنے مخصوص مبہم اور پرسرار انداز کے اندر پیش کوئیاں کرتی تھی اب ہزاروں سال گزر چکے ہیں لیکن ہمارا fear of unknown اور مستقبل کو جاننے کی بیچینی آج بھی پرقرار ہے۔ فرق صفیہ کے پہلے مندر تھا اب screens ہیں۔ پہلے ایک مختلف طریقے سے علم الغیب کے ذریعے لوگوں کو بتایا جاتا تھا اب pattern recognition ہیں، statistical analysis ہیں اور complex algorithms یہ کام کرتے ہیں۔ انسان نے پتھر کے زمانے سے جدید دنیا تک کا سفر تو تیق کر لیا ہے لیکن اپنے آپ کو آج بھی ہم تسخیر نہیں کر پائے وہ احمد جاوید صاحب کہتے ہیں کہ جتنا علم ہمارے پاس سہرہ کا ہے اتنا ایک ذرے کا نہیں ہے یعنی کہ ہم نے باہر کی دنیا کا سفر باہر کی دنیا کو جان تو لیا ہے لیکن اپنے آپ کو آج بھی نہیں جان پائے اپنے باطن کی طرف جانے والے راستے کی تلاش ہمیں نہیں ہے شاید اس لیے زمانے بدلتے گئے ہیں اور ہمارے خوف ہمارے سوالات آج بھی وہی ہیں



