کرپٹو دنیا میں ایک بار پھر مائیکل سیلر کی جانب سے ایک جرات مندانہ پیش گوئی نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ BTC Prague 2026 میں خطاب کرتے ہوئے سیلر نے کہا کہ بٹ کوائن کی قیمت مستقبل میں 70 ہزار ڈالر سے بڑھ کر 70 لاکھ ڈالر فی کوائن تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بٹ کوائن دوبارہ 66 ہزار ڈالر سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے اور مارکیٹ میں مثبت جذبات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
مائیکل سیلر ایسا کیوں سوچتے ہیں؟
سیلر کے مطابق بٹ کوائن ابھی بھی عالمی دولت کا بہت چھوٹا حصہ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 1000 ٹریلین ڈالر کا سرمایہ موجود ہے جبکہ بٹ کوائن کا حصہ صرف تقریباً 1 ٹریلین ڈالر ہے۔
ان کے خیال میں اگر بینک، پنشن فنڈز، ویلتھ مینیجرز اور انشورنس کمپنیاں بڑے پیمانے پر بٹ کوائن میں سرمایہ کاری شروع کر دیں تو بٹ کوائن کی مارکیٹ ویلیو کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ بٹ کوائن کا نیٹ ورک مستقبل میں 100 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں قیمت لاکھوں ڈالر فی کوائن تک جا سکتی ہے۔
ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں اضافہ
مائیکل سیلر کی کمپنی Strategy نے حال ہی میں مزید 100 ملین ڈالر مالیت کا بٹ کوائن خریدا ہے۔ اس اقدام کو اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ بڑی کمپنیاں اور ادارے اب بھی بٹ کوائن پر بھرپور اعتماد رکھتے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں بٹ کوائن ETFs، بٹ کوائن سے منسلک مالیاتی مصنوعات اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے مارکیٹ کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
کرپٹو مارکیٹ پر ممکنہ اثرات
اگر ادارہ جاتی سرمایہ کاری کا رجحان جاری رہتا ہے تو بٹ کوائن کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف بٹ کوائن بلکہ دیگر بڑی کرپٹو کرنسیاں بھی فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
تاہم سرمایہ کاروں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ ایک طویل مدتی پیش گوئی ہے، نہ کہ فوری قیمت کا ہدف۔ کرپٹو مارکیٹ ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے اور کسی بھی سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق کرنا ضروری ہے۔
نتیجہ
مائیکل سیلر کی 70 لاکھ ڈالر فی بٹ کوائن والی پیش گوئی نے ایک بار پھر کرپٹو کمیونٹی میں بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ یہ ہدف بہت بڑا لگتا ہے، لیکن سیلر کا ماننا ہے کہ عالمی سرمایہ کا ایک بڑا حصہ ابھی تک بٹ کوائن میں داخل نہیں ہوا۔ اگر مستقبل میں ادارہ جاتی اپنانے کی رفتار بڑھتی ہے تو بٹ کوائن کی ترقی کا سفر ابھی بہت طویل ہو سکتا ہے۔