پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی کمپنیوں پر لگی ہوئی پابندی ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان جاری ہو چکا ہے، اور اب یہ کاروبار مخصوص ریگولیٹری فریم ورک کے تحت قانونی اور رجسٹرڈ بن گیا ہے۔�
اس اعلان کا خلاصہ
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں ورچوئل ایسٹ سروسز (کرپٹو کرنسی کی کمپنیاں) پر عائد پابندی کا نوٹیفکیشن ختم کرتے ہوئے یہ اجازت دی ہے کہ لائسنس یافتہ کرپٹو ایکسچینجز اور سروس فراہم کنندگان قانونی طور پر کام کر سکیں۔�
اب بینکوں کو لائسنس یافتہ کرپٹو کمپنیز کے بینک اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت ہوگی، جس سے یہ کمپنیاں بینکنگ سسٹم سے جڑ سکیں گی۔�
قانونی اور ریگولیٹری ڈھانچہ
اس تبدیلی کے ساتھ حکومت نے ورچوئل اثاثہ جات بل 2025 کے ذریعے ایک خصوصی ورچوئل اثاثہ جات اتھارٹی (Virtual Assets Authority) قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کرپٹو ایکسچینجز اور سروس پرووائیڈرز کی نگرانی کرے گی۔�
اسی بل کے تحت بغیر لائسنس کے کرپٹو کاروبار کرنے والوں پر تک 10 کروڑ روپے کا جرمانہ اور تک 7 سال قید کی سزائیں بھی متعین کی گئی ہیں، تاکہ بلا ریگولیشن ایکٹیویٹیز پر کنٹرول رہے۔�
اس کے ممکنہ اثرات
اس اقدام کا مقصد کرپٹو سیکٹر کو ریگولیٹ کر کے سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور منی لانڈرنگ جیسے خطرات کم کرنا ہے، جس سے FATF اور بین الاقوامی مالیاتی معیاروں پر پاکستان کی شبیہ بہتر بننے کی امید ہے۔�