Binance Square

Sumair Shahzad

23 تتابع
22 المتابعون
47 إعجاب
2 تمّت مُشاركتها
منشورات
·
--
مقالة
تيسلا باي: هاتف محمول متصل بالشحن الشمسي وإنترنت الأقمار الصناعية لا يزال بعيدًا عن الواقعإذا كان لديك هاتف يمكنه أن يدخل جيبك ويشحن نفسه تلقائيًا، ويكون له اتصال بالمريخ والقمر، ويعمل عليه إنترنت عبر الأقمار الصناعية لا يتوقف أبدًا... عند سماع ذلك، قد يكون قد تشكل في ذهنك صورة لفيلم خيال علمي، لكن وجود مثل هذا الهاتف ليس حقيقة، ولم تقم أي شركة تكنولوجيا بالإشارة إلى أنها ستقدم جهازًا من هذا القبيل في المستقبل القريب.

تيسلا باي: هاتف محمول متصل بالشحن الشمسي وإنترنت الأقمار الصناعية لا يزال بعيدًا عن الواقع

إذا كان لديك هاتف يمكنه أن يدخل جيبك ويشحن نفسه تلقائيًا، ويكون له اتصال بالمريخ والقمر، ويعمل عليه إنترنت عبر الأقمار الصناعية لا يتوقف أبدًا...

عند سماع ذلك، قد يكون قد تشكل في ذهنك صورة لفيلم خيال علمي، لكن وجود مثل هذا الهاتف ليس حقيقة، ولم تقم أي شركة تكنولوجيا بالإشارة إلى أنها ستقدم جهازًا من هذا القبيل في المستقبل القريب.
Ameen
Ameen
مقالة
"عقوبة لص الخبز"يقال إنه في ولاية أمريكية، تم القبض على رجل مسن بتهمة سرقة رغيف من الخبز وتم تقديمه للمحكمة. لقد اعترف بدلاً من الإنكار بأنه سرق الخبز وقدم عذرًا بأنه كان جائعًا وكان على وشك الموت! قال القاضي: "أنت تعترف أنك لص، أفرض عليك غرامة قدرها عشرة دولارات، وأنا أعلم أنه ليس لديك هذا المبلغ، لهذا سرقت الخبز، لذا سأدفع هذه الغرامة من جيبي". يخيم الصمت على الجمهور.

"عقوبة لص الخبز"

يقال إنه في ولاية أمريكية، تم القبض على رجل مسن بتهمة سرقة رغيف من الخبز وتم تقديمه للمحكمة.
لقد اعترف بدلاً من الإنكار بأنه سرق الخبز وقدم عذرًا بأنه كان جائعًا وكان على وشك الموت!
قال القاضي: "أنت تعترف أنك لص، أفرض عليك غرامة قدرها عشرة دولارات، وأنا أعلم أنه ليس لديك هذا المبلغ، لهذا سرقت الخبز، لذا سأدفع هذه الغرامة من جيبي". يخيم الصمت على الجمهور.
الفرق بين الأشخاص الناجحين... والأشخاص الناجحين جداً... هو أن الأشخاص الناجحين جداً يقولون 'لا' تقريباً لكل شيء. إذا لم تعطي الأولوية لوقتك على الآخرين، ستجد أن الإنتاجية تنخفض وتبدأ مشاعر الاستياء. -وارن بافيت. لكن عندما أقول ذلك... يقول الناس إنه أناني وأنني أحمق. Lol.#TrumpTariffsOnEurope #GoldSilverAtRecordHighs #CPIWatch #BinanceHODLerBREV $BTC {spot}(BTCUSDT) $ETH {spot}(ETHUSDT) $BNB {spot}(BNBUSDT)
الفرق بين الأشخاص الناجحين...

والأشخاص الناجحين جداً...

هو أن الأشخاص الناجحين جداً يقولون 'لا' تقريباً لكل شيء.

إذا لم تعطي الأولوية لوقتك على الآخرين، ستجد أن الإنتاجية تنخفض وتبدأ مشاعر الاستياء.

-وارن بافيت.

لكن عندما أقول ذلك...

يقول الناس إنه أناني وأنني أحمق. Lol.#TrumpTariffsOnEurope #GoldSilverAtRecordHighs #CPIWatch #BinanceHODLerBREV $BTC
$ETH
$BNB
مقالة
أمريكا وإيرانامریکہ ایران کے معاملے میں دنیا کو دھوکا دیتا نظر آرہا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے عراق کے معاملے میں بھی امریکہ نے دنیا کو دھوکا دیا تھا۔ ابھی قطر پر ازرا یلی حملے کے وقت بھی قطر کو امریکہ نے ہی دھوکا دیا تھا۔ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلا کر دنیا کو یہ تاثر دیا کہ وہ افغانستان سے نکل گیا ہے مگر ہر ہفتے اسی طالبان حکومت کو ڈالر دے

أمريكا وإيران

امریکہ ایران کے معاملے میں دنیا کو دھوکا دیتا نظر آرہا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے عراق کے معاملے میں بھی امریکہ نے دنیا کو دھوکا دیا تھا۔
ابھی قطر پر ازرا یلی حملے کے وقت بھی قطر کو امریکہ نے ہی دھوکا دیا تھا۔

افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلا کر دنیا کو یہ تاثر دیا کہ وہ افغانستان سے نکل گیا ہے مگر ہر ہفتے اسی طالبان حکومت کو ڈالر دے
مقالة
حاول أن تضحك أحيانًاتوفيت زوجة أحد الرجال. كان البيت مغطى بحزن شديد. كان الأقارب، الأصدقاء، والجيران جميعًا مجتمعين. كان أحدهم يقول: “كانت امرأة طيبة جدًا.” كان أحدهم يتحدث: “الله يمنح الصبر، لقد كان خسارة كبيرة.” كان في عيون الجميع دموع... باستثناء الزوج. كان يجلس في زاوية بصمت. وجهه جاد، وعينيه جافتين.

حاول أن تضحك أحيانًا

توفيت زوجة أحد الرجال.
كان البيت مغطى بحزن شديد. كان الأقارب، الأصدقاء، والجيران جميعًا مجتمعين.
كان أحدهم يقول:
“كانت امرأة طيبة جدًا.”
كان أحدهم يتحدث:
“الله يمنح الصبر، لقد كان خسارة كبيرة.”

كان في عيون الجميع دموع...
باستثناء الزوج.

كان يجلس في زاوية بصمت. وجهه جاد، وعينيه جافتين.
مقالة
یہ منیزہ نقوی ہیں، أمريكا میں ہوتی ہیں ، کبھی کبھی پاکستان آتی ہیں ۔ کراچی میں ایک کتاب گھر تھا ۔ نام اُس کا پائنیر بک ہاوس تھا ، یہ سو سال پرانا تھا ۔ مگر تباہ ہو چکا تھا ، کوئی یہاں سے کتاب نہیں خریدتا تھا ۔ کتاب گھر کا مالک مکمل طور پر بیزار ہو چکا تھا ، وہ اُسے بیچنے کے لیے تیار تھا اور کتابوں کو خدا حافظ کہنے والا تھا ۔ دوکان تین منزلہ تھی ۔ اور ایسی نایاب جگہ پر اور نایاب طرز میں تعمیر ہوئی تھی کہ اللہ اللہ اور سبحان اللہ ۔ مگر وہاں گاہکوں کی نایابی کے باعث دکان کچرے کباڑ کا ڈھیر ہو گئی تھی۔ ایسے میں کسی نے ڈان میں اُس کے متعلق ایک آرٹیکل لکھا کہ سو سال پرانی دکان بند ہونے جا رہی ہے ۔ وہ آرٹیکل امریکہ میں بیٹھی منیزہ نقوی نے پڑھا ، منیزہ امریکہ سے کراچی پہنچی ، دکان کی حالت دیکھی اور بے چین ہو گئی ۔ دکاندار نہایت مایوسی اور نامرادی کی حالت میں تنہا بیٹھا دل سے گریہ کر رہا تھا ۔ منیزہ نے اُس کو سلام بلایا ، جس کا اُس نے کوئی جواب نہ دیا ۔ وہ کچھ دیر وہاں بیٹھ کر واپس چلی آئی ۔ اگلے دن پھر گئی ۔ دکان دار نے اُسے بیزاری سے دیکھا ۔ منیزہ نے کہا ، اگر آپ ناراض نہ ہوں تو مَیں آپ کی دکان میں جھاڑو دے کر کچھ گرد صاف کر دوں ؟ وہ خاموش رہا ، منیزہ نے اُس کی خاموشی کو اجازت سمجھا اور دکان میں صفائی کرنے لگی ، دکان دار خاموش اُسے دیکھتا رہا اور ایک بات زبان سے نہیں کی ۔ دکان بہت بڑی تھی ۔ منیزہ شام تک صفائی کرتی رہی ۔ دوسرے دن پھر چلی گئی ، تیسرے دن بھی گئی ۔ اِس طرح منیزہ نقوی نے دکان میں پندرہ دن تک جھاڑ پونجھ کر کے اُسے صاف کیا ۔ اِس عرصے میں وہ دکان دار اُس سے کچھ کچھ بات کرنے لگا تھا ۔ جب دکان صاف ہو گئی تو منیزہ نے ایک دن اُسے کہا ، اگر آپ کچھ دن صبر کریں اور اِس دکان کو بند نہ کریں تو ہم اِسے چلا کر دیکھتے ہیں ، اللہ کرے گا چل ہی جائے گی ۔ وہ اِس بات پر بھی خاموش ہو گیا ، منیزہ نے اِس کو بھی اثبات جانا اور اُسے چلانے کے درپے ہوئیں ۔ کچھ نئی طرز کی چھوٹی کرسیاں خرید لائی ، دو چار نئی میزیں اور اسٹول خرید لائی ۔ ایک دو لیمپ لے آئی اور اِن سب چیزوں کو اُس نے اوپر کی منزل میں رکھ دیا تاکہ لوگوں کو یہاں بیٹھ کر چائے پینے اور گپ شپ کرنے کو مناسب جگہ میسر ہو ۔ اُس کے بعد اپنے دوست احباب کو وہاں لے جا کر دکھانا شروع کر دیا ۔ اور اُنھیں تحریک دینے لگی کہ وہاں جائیں اور کتابیں خریدیں ۔ ایک دن مَیں کراچی میں تھا کہ منیزہ نے مجھے کہا ناطق ،تمھیں ایک دکان پر لے کر جانا ہے ، رستے میں اُس نے مجھے بہت کچھ باتیں بتائیں کہ کس طرح اُسے اِس دکان اور دکان والے کی کسمپرسی کا پتا چلا اور وہ کیسے یہاں پہنچی اور کس کس طرح اُس نے دکان بحال کرنے کی کوشش کی ۔ ہم دکان پر پہنچے ۔ مَیں نے دیکھا دکان نہایت کسمپرسی کا شکار تھی ، کوئی کتاب وہاں ڈھنگ کی نہیں تھی ۔ کوئی گاہک نہیں تھا ۔ منیزہ نے مجھے دکان کے تینوں پورشن دکھائے ، واللہ میں نے جانا اگر اِسے کارآمد کیا جائے تو کراچی والے شاعروں ادیبوں کے لیے اِس سے بہتر اجلاس کرنے کو کوئی جگہ نہیں تھی ۔ لیکن برباد ہو رہی تھی ۔ دکان کو اچھی طرح سے دیکھ کر ہم نیچے آگئے اور دکان دار کے پاس کاونٹر پر بیٹھ گئے ۔ ہم بیٹھے ہی تھے کہ دو لوگ وہاں آئے ۔ یہ حیدر آباد سے کراچی آئے تھے ۔ اُنھوں نے کچھ ادبی کتابوں کا پوچھا ، اور وہاں پڑی ہوئی چند کتابوں میں سے تین چار کتابیں خرید لیں ۔ دو کتابیں میری بھی خریدیں جو منیزہ پہلے ہی آکسفورڈ فیسٹول کراچی کے کتابوں کے اسٹال سے خرید کر وہاں رکھ چکی تھی ۔ ایک کتاب مَیں نے خود خریدی ۔ اُس کے بعد وہ دونوں لوگ بھی وہاں بیٹھ گئے ۔ منیزہ نے مجھے کہا ناطق آپ اپنی ایک نظم سفیرِ لیلٰی سناو ۔ اتنے میں اُسی دکاندار کے چہرے پر رونق کے آثار نمودار ہوئے ۔ اُس نے ساتھ والی چائے کی دکان سے چائے کا آرڈر دیا ۔ مَیں نے نظم پڑھنا شروع کی ۔ تمام لوگوں پر ایک سحر طاری ہو گیا ۔ نظم سُننے اور چائے پینے کے بعد وہ دونوں لوگ وہاں سے چلے گئے ۔ دکان دار نے ہم سے خاطب کر کے کہا ، آج ایک مہینے بعد گاہک میری دکان پر آئے ہیں ۔ اللہ جانے اِس میں کیا حکمت ہے اور یہ جو کتابیں خرید کر لے گئے ہیں واللہ یہ پچھلے دس سال سے یہاں پڑی ہیں کسی نے اِنھیں ہاتھ تک نہیں لگایا ۔ خیر اُس کے بعد مَیں وہاں سے چلا آیا ۔ مجھے اسلام آباد واپس آنا تھا ۔ منیزہ نے اب یہ معمول بنا لیا کہ لوگوں کو پکڑ کر وہاں لے جانے لگی اور دکان کی تشہیر شروع کر دی ۔ علاوہ اِس کے اپنے پلے سے دکان کی رینوویشن بھی شروع کی۔ مَیں نے لاہور آ کر ایک پبلشر سے کہا کہ وہاں میری کتابوں سمیت اپنی تمام کتابیں سیل اینڈ ریٹرن پر بھیجے ، اُس نے میری بات پر عمل کیا ۔ اُدھر منیزہ نقوی نے بھی مختلف پبلشروں سے کتابیں منگوانا شروع کیں ۔ یوں دکان کی ایک نئی صورت بنتی چلی گئی ۔ میری کئی کتابیں وہاں بکنا شروع ہو گئیں ۔ اور آج اُس دکان نے اللہ کے کرم سے اپنی معاشی حیثیت مستحکم کر لی ہے ۔ وہ دکان یہی ہے ، یہی وہ منیزہ نقوی ہے جسے کوئی لالچ نہیں سوائے اِس کے کہ ایک کتابوں کی دکان بند نہ ہو جائے۔ اور یہی وہ دکاندار ہے جس کے چہرے پر کبھی مسکراہٹ نہیں آئی تھی ۔ منیزہ نقوی اللہ ہی آپ کو اِس کا اجر دے گا ۔ نیچے دکان کی موجودہ حالت ہے

یہ منیزہ نقوی ہیں

، أمريكا میں ہوتی ہیں ، کبھی کبھی پاکستان آتی ہیں ۔ کراچی میں ایک کتاب گھر تھا ۔ نام اُس کا پائنیر بک ہاوس تھا ، یہ سو سال پرانا تھا ۔ مگر تباہ ہو چکا تھا ، کوئی یہاں سے کتاب نہیں خریدتا تھا ۔ کتاب گھر کا مالک مکمل طور پر بیزار ہو چکا تھا ، وہ اُسے بیچنے کے لیے تیار تھا اور کتابوں کو خدا حافظ کہنے والا تھا ۔ دوکان تین منزلہ تھی ۔ اور ایسی نایاب جگہ پر اور نایاب طرز میں تعمیر ہوئی تھی کہ اللہ اللہ اور سبحان اللہ ۔ مگر وہاں گاہکوں کی نایابی کے باعث دکان کچرے کباڑ کا ڈھیر ہو گئی تھی۔ ایسے میں کسی نے ڈان میں اُس کے متعلق ایک آرٹیکل لکھا کہ سو سال پرانی دکان بند ہونے جا رہی ہے ۔ وہ آرٹیکل امریکہ میں بیٹھی منیزہ نقوی نے پڑھا ، منیزہ امریکہ سے کراچی پہنچی ، دکان کی حالت دیکھی اور بے چین ہو گئی ۔ دکاندار نہایت مایوسی اور نامرادی کی حالت میں تنہا بیٹھا دل سے گریہ کر رہا تھا ۔ منیزہ نے اُس کو سلام بلایا ، جس کا اُس نے کوئی جواب نہ دیا ۔ وہ کچھ دیر وہاں بیٹھ کر واپس چلی آئی ۔ اگلے دن پھر گئی ۔ دکان دار نے اُسے بیزاری سے دیکھا ۔ منیزہ نے کہا ، اگر آپ ناراض نہ ہوں تو مَیں آپ کی دکان میں جھاڑو دے کر کچھ گرد صاف کر دوں ؟ وہ خاموش رہا ، منیزہ نے اُس کی خاموشی کو اجازت سمجھا اور دکان میں صفائی کرنے لگی ، دکان دار خاموش اُسے دیکھتا رہا اور ایک بات زبان سے نہیں کی ۔ دکان بہت بڑی تھی ۔ منیزہ شام تک صفائی کرتی رہی ۔ دوسرے دن پھر چلی گئی ، تیسرے دن بھی گئی ۔ اِس طرح منیزہ نقوی نے دکان میں پندرہ دن تک جھاڑ پونجھ کر کے اُسے صاف کیا ۔ اِس عرصے میں وہ دکان دار اُس سے کچھ کچھ بات کرنے لگا تھا ۔ جب دکان صاف ہو گئی تو منیزہ نے ایک دن اُسے کہا ، اگر آپ کچھ دن صبر کریں اور اِس دکان کو بند نہ کریں تو ہم اِسے چلا کر دیکھتے ہیں ، اللہ کرے گا چل ہی جائے گی ۔ وہ اِس بات پر بھی خاموش ہو گیا ، منیزہ نے اِس کو بھی اثبات جانا اور اُسے چلانے کے درپے ہوئیں ۔ کچھ نئی طرز کی چھوٹی کرسیاں خرید لائی ، دو چار نئی میزیں اور اسٹول خرید لائی ۔ ایک دو لیمپ لے آئی اور اِن سب چیزوں کو اُس نے اوپر کی منزل میں رکھ دیا تاکہ لوگوں کو یہاں بیٹھ کر چائے پینے اور گپ شپ کرنے کو مناسب جگہ میسر ہو ۔ اُس کے بعد اپنے دوست احباب کو وہاں لے جا کر دکھانا شروع کر دیا ۔ اور اُنھیں تحریک دینے لگی کہ وہاں جائیں اور کتابیں خریدیں ۔ ایک دن مَیں کراچی میں تھا کہ منیزہ نے مجھے کہا ناطق ،تمھیں ایک دکان پر لے کر جانا ہے ، رستے میں اُس نے مجھے بہت کچھ باتیں بتائیں کہ کس طرح اُسے اِس دکان اور دکان والے کی کسمپرسی کا پتا چلا اور وہ کیسے یہاں پہنچی اور کس کس طرح اُس نے دکان بحال کرنے کی کوشش کی ۔ ہم دکان پر پہنچے ۔ مَیں نے دیکھا دکان نہایت کسمپرسی کا شکار تھی ، کوئی کتاب وہاں ڈھنگ کی نہیں تھی ۔ کوئی گاہک نہیں تھا ۔ منیزہ نے مجھے دکان کے تینوں پورشن دکھائے ، واللہ میں نے جانا اگر اِسے کارآمد کیا جائے تو کراچی والے شاعروں ادیبوں کے لیے اِس سے بہتر اجلاس کرنے کو کوئی جگہ نہیں تھی ۔ لیکن برباد ہو رہی تھی ۔ دکان کو اچھی طرح سے دیکھ کر ہم نیچے آگئے اور دکان دار کے پاس کاونٹر پر بیٹھ گئے ۔ ہم بیٹھے ہی تھے کہ دو لوگ وہاں آئے ۔ یہ حیدر آباد سے کراچی آئے تھے ۔ اُنھوں نے کچھ ادبی کتابوں کا پوچھا ، اور وہاں پڑی ہوئی چند کتابوں میں سے تین چار کتابیں خرید لیں ۔ دو کتابیں میری بھی خریدیں جو منیزہ پہلے ہی آکسفورڈ فیسٹول کراچی کے کتابوں کے اسٹال سے خرید کر وہاں رکھ چکی تھی ۔ ایک کتاب مَیں نے خود خریدی ۔ اُس کے بعد وہ دونوں لوگ بھی وہاں بیٹھ گئے ۔ منیزہ نے مجھے کہا ناطق آپ اپنی ایک نظم سفیرِ لیلٰی سناو ۔ اتنے میں اُسی دکاندار کے چہرے پر رونق کے آثار نمودار ہوئے ۔ اُس نے ساتھ والی چائے کی دکان سے چائے کا آرڈر دیا ۔ مَیں نے نظم پڑھنا شروع کی ۔ تمام لوگوں پر ایک سحر طاری ہو گیا ۔ نظم سُننے اور چائے پینے کے بعد وہ دونوں لوگ وہاں سے چلے گئے ۔ دکان دار نے ہم سے خاطب کر کے کہا ، آج ایک مہینے بعد گاہک میری دکان پر آئے ہیں ۔ اللہ جانے اِس میں کیا حکمت ہے اور یہ جو کتابیں خرید کر لے گئے ہیں واللہ یہ پچھلے دس سال سے یہاں پڑی ہیں کسی نے اِنھیں ہاتھ تک نہیں لگایا ۔ خیر اُس کے بعد مَیں وہاں سے چلا آیا ۔ مجھے اسلام آباد واپس آنا تھا ۔ منیزہ نے اب یہ معمول بنا لیا کہ لوگوں کو پکڑ کر وہاں لے جانے لگی اور دکان کی تشہیر شروع کر دی ۔ علاوہ اِس کے اپنے پلے سے دکان کی رینوویشن بھی شروع کی۔ مَیں نے لاہور آ کر ایک پبلشر سے کہا کہ وہاں میری کتابوں سمیت اپنی تمام کتابیں سیل اینڈ ریٹرن پر بھیجے ، اُس نے میری بات پر عمل کیا ۔ اُدھر منیزہ نقوی نے بھی مختلف پبلشروں سے کتابیں منگوانا شروع کیں ۔ یوں دکان کی ایک نئی صورت بنتی چلی گئی ۔ میری کئی کتابیں وہاں بکنا شروع ہو گئیں ۔ اور آج اُس دکان نے اللہ کے کرم سے اپنی معاشی حیثیت مستحکم کر لی ہے ۔ وہ دکان یہی ہے ، یہی وہ منیزہ نقوی ہے جسے کوئی لالچ نہیں سوائے اِس کے کہ ایک کتابوں کی دکان بند نہ ہو جائے۔ اور یہی وہ دکاندار ہے جس کے چہرے پر کبھی مسکراہٹ نہیں آئی تھی ۔ منیزہ نقوی اللہ ہی آپ کو اِس کا اجر دے گا ۔ نیچے دکان کی موجودہ حالت ہے
مقالة
فكرة قديمةفي قديم الزمان كان هناك شخص ميسور الحال يعيش في قرية. كان لديه حظيرة للحيوانات وكان يبيع حليب الحيوانات، والسمن، والزبدة. كانت الثروة وفيرة. ثم في يوم من الأيام أصاب حيواناته مرض جعل جميع الحيوانات تموت واحدة تلو الأخرى. كان في غاية القلق، فقد كان ميسور الحال وجمع ثروة كبيرة في منزله. بدأ يستخدم المال لتغطية نفقاته اليومية وشيئاً فشيئاً تم بيع جميع ممتلكاته الثمينة حتى وصل الأمر إلى حد المجاعة.

فكرة قديمة

في قديم الزمان كان هناك شخص ميسور الحال يعيش في قرية. كان لديه حظيرة للحيوانات وكان يبيع حليب الحيوانات، والسمن، والزبدة. كانت الثروة وفيرة.

ثم في يوم من الأيام أصاب حيواناته مرض جعل جميع الحيوانات تموت واحدة تلو الأخرى. كان في غاية القلق، فقد كان ميسور الحال وجمع ثروة كبيرة في منزله. بدأ يستخدم المال لتغطية نفقاته اليومية وشيئاً فشيئاً تم بيع جميع ممتلكاته الثمينة حتى وصل الأمر إلى حد المجاعة.
كما تشاء
كما تشاء
Landon Dinkins IJUj
·
--
تلك القصة تشير إلى أن $GIGGLE سترتفع.
مقالة
قصة الحقيقةشخص کہتا ہے میں جہاز سے اترا اور کسٹم سے گزر کر ٹیکسی لینے سٹینڈ کی طرف چلا۔ جب میرے پاس ایک ٹیکسی رکی تو مجھے جو چیز انوکھی لگی وہ گاڑی کی چمک دمک تھی اس کی پالش دور سے جگمگا رہی تھی۔ ٹیکسی سے ایک سمارٹ ڈرائیور تیزی سے نکلا اس نے سفید شرٹ اور سیاہ پتلون پہنی ہوئی تھی جو کہ تازہ تازہ استری شدہ لگ رہی تھی۔ اس نے صفائی سے سیاہ ٹائی بھی باندھی ہوئی تھی۔ وہ ٹیکسی کی دوسری طرف آیا اور میرے لئے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا۔

قصة الحقيقة

شخص کہتا ہے میں جہاز سے اترا اور کسٹم سے گزر کر ٹیکسی لینے سٹینڈ کی طرف چلا۔ جب میرے پاس ایک ٹیکسی رکی تو مجھے جو چیز انوکھی لگی وہ گاڑی کی چمک دمک تھی اس کی پالش دور سے جگمگا رہی تھی۔ ٹیکسی سے ایک سمارٹ ڈرائیور تیزی سے نکلا اس نے سفید شرٹ اور سیاہ پتلون پہنی ہوئی تھی جو کہ تازہ تازہ استری شدہ لگ رہی تھی۔ اس نے صفائی سے سیاہ ٹائی بھی باندھی ہوئی تھی۔ وہ ٹیکسی کی دوسری طرف آیا اور میرے لئے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا۔
مقالة
هذه الصورة لآخر ملك في إيرانجو خود کو شہنشاہ (بادشاہوں کا بادشاہ) کہلواتا تھا، اپنی بیوی کے ساتھ بستر پر پڑا ہوا، موت کا انتظار کر رہا ہے۔ مصری مصنف محمد حسنین ہیکل اپنی کتاب "مدافعِ آیات اللہ" میں لکھتے ہیں کہ ایران کے بادشاہ محمد رضا پہلوی، خمینی انقلاب کے بعد جب ملک سے فرار ہوا، تو ایک ملک سے دوسرے ملک بھٹکتا رہا۔ کوئی بھی ملک اسے خوش دلی سے قبول کرنے کو تیار نہ تھا۔

هذه الصورة لآخر ملك في إيران

جو خود کو شہنشاہ (بادشاہوں کا بادشاہ) کہلواتا تھا، اپنی بیوی کے ساتھ بستر پر پڑا ہوا، موت کا انتظار کر رہا ہے۔
مصری مصنف محمد حسنین ہیکل اپنی کتاب "مدافعِ آیات اللہ" میں لکھتے ہیں کہ ایران کے بادشاہ محمد رضا پہلوی، خمینی انقلاب کے بعد جب ملک سے فرار ہوا، تو ایک ملک سے دوسرے ملک بھٹکتا رہا۔ کوئی بھی ملک اسے خوش دلی سے قبول کرنے کو تیار نہ تھا۔
مقالة
تم فصلها بسبب خطأ مطبعي، وأعطتها نفس الخطأ 5.47 مليون دولار.كانت امرأة تجلس على مكتبها تحاول كبح دموعها، لكن الدموع لم تتوقف. كان اسمها ابنة نيسميث غراهام. كانت أمًا مطلقة وعزباء. كانت قد تركت المدرسة الثانوية. كانت تعيل ابنها الصغير بمبلغ ثلاثمائة دولار شهريًا. كانت كل رات بالنسبة لها خيط الحياة.

تم فصلها بسبب خطأ مطبعي، وأعطتها نفس الخطأ 5.47 مليون دولار.

كانت امرأة تجلس على مكتبها تحاول كبح دموعها، لكن الدموع لم تتوقف.
كان اسمها ابنة نيسميث غراهام.
كانت أمًا مطلقة وعزباء.
كانت قد تركت المدرسة الثانوية.
كانت تعيل ابنها الصغير بمبلغ ثلاثمائة دولار شهريًا.
كانت كل رات بالنسبة لها خيط الحياة.
مقالة
یمن کے ایک شہر میں بوسیدہ لباس میں کوئی مستانہ وار جارہا ہےشہر کے آوارہ بچے اس کے پیچھے تالیاں بجاتے اور آوازے کستے چلے آرہے ہیں، بچوں نے کنکر بھی مارنا شروع کردیئے۔ لیکن حیرت ہے کہ یہ فقیر کنکریاں مارنے والوں کو نہ روکتا ہے نہ ٹوکتا ہے۔ مسکراتے اور زیر لب گنگناتے وہ اپنی دھن میں چلا جارہا ہے۔ اچانک کسی جانب سے ایک بڑا پتھر اس کے سر سے آٹکراتا ہے۔ زخم سے خون کی ایک پتلی سے لکیر جب پیشانی کو عبور کرنے لگتی ہے تو وہ رک جاتا ہے۔ پھر پتھر مارنے والے بچوں کی طرف رخ کرکے کہتا ہے۔

یمن کے ایک شہر میں بوسیدہ لباس میں کوئی مستانہ وار جارہا ہے

شہر کے آوارہ بچے اس کے پیچھے تالیاں بجاتے اور آوازے کستے چلے آرہے ہیں، بچوں نے کنکر بھی مارنا شروع کردیئے۔ لیکن حیرت ہے کہ یہ فقیر کنکریاں مارنے والوں کو نہ روکتا ہے نہ ٹوکتا ہے۔ مسکراتے اور زیر لب گنگناتے وہ اپنی دھن میں چلا جارہا ہے۔ اچانک کسی جانب سے ایک بڑا پتھر اس کے سر سے آٹکراتا ہے۔ زخم سے خون کی ایک پتلی سے لکیر جب پیشانی کو عبور کرنے لگتی ہے تو وہ رک جاتا ہے۔ پھر پتھر مارنے والے بچوں کی طرف رخ کرکے کہتا ہے۔
محبت کی ایک دوسرے سے انوکھی پاکستان اور چین کے عوام #الصين #باكستان #علاقات_باكستان_الصين #اكتشف_باكستان #StrategyBTCPurchase
محبت کی ایک دوسرے سے انوکھی پاکستان اور چین کے عوام
#الصين #باكستان #علاقات_باكستان_الصين #اكتشف_باكستان #StrategyBTCPurchase
مقالة
سحب الأرض من تحت أقدام مودي. ترامبحلم الهند في أن تصبح زعيمة المنطقة انكسر في وسط الطريق. على الرغم من الحق الإداري لمدة عشر سنوات في ميناء تشاباهار الإيراني، الذي أعلنت عنه حكومة مودي بشكل ضخم في عام 2024، كان على نيودلهي في النهاية أن تجمع أغراضها في صمت. الاستقالات الجماعية لجميع الممثلين الرسميين لشركة الهند للموانئ العالمية (IPGL) والاختفاء المفاجئ للموقع الإلكتروني يؤكد هذا الخط الأحمر الذي رسمته واشنطن واعترفت به دلهي على الفور.

سحب الأرض من تحت أقدام مودي. ترامب

حلم الهند في أن تصبح زعيمة المنطقة انكسر في وسط الطريق. على الرغم من الحق الإداري لمدة عشر سنوات في ميناء تشاباهار الإيراني، الذي أعلنت عنه حكومة مودي بشكل ضخم في عام 2024، كان على نيودلهي في النهاية أن تجمع أغراضها في صمت. الاستقالات الجماعية لجميع الممثلين الرسميين لشركة الهند للموانئ العالمية (IPGL) والاختفاء المفاجئ للموقع الإلكتروني يؤكد هذا الخط الأحمر الذي رسمته واشنطن واعترفت به دلهي على الفور.
خداع ترامب: لماذا تبقى الضربة الأمريكية على إيران تهديدًا حقيقيًا من فنزويلا وإيران، هاجم ترامب دولًا في الماضي عندما بدا أن الدبلوماسية تعمل. بعد أن هدد بالهجوم على إيران لعدة أيام دعمًا للاحتجاجات التي تتحدى الحكومة في طهران، بدا أن رئيس الولايات المتحدة دونالد ترامب قد تراجع عن الخطاب مساء يوم الأربعاء. قال ترامب إن عمليات القتل في إيران قد توقفت، مضيفًا أن طهران أخبرت إدارته أن المحتجين المعتقلين لن يتم إعدامهم. #Trump #Iran #Breakingnews #Greenland #BTC #BNB $BTC {spot}(BTCUSDT)
خداع ترامب: لماذا تبقى الضربة الأمريكية على إيران تهديدًا حقيقيًا
من فنزويلا وإيران، هاجم ترامب دولًا في الماضي عندما بدا أن الدبلوماسية تعمل.
بعد أن هدد بالهجوم على إيران لعدة أيام دعمًا للاحتجاجات التي تتحدى الحكومة في طهران، بدا أن رئيس الولايات المتحدة دونالد ترامب قد تراجع عن الخطاب مساء يوم الأربعاء.

قال ترامب إن عمليات القتل في إيران قد توقفت، مضيفًا أن طهران أخبرت إدارته أن المحتجين المعتقلين لن يتم إعدامهم.
#Trump #Iran #Breakingnews #Greenland #BTC #BNB
$BTC
سجّل الدخول لاستكشاف المزيد من المُحتوى
انضم إلى مُستخدمي العملات الرقمية حول العالم على Binance Square
⚡️ احصل على أحدث المعلومات المفيدة عن العملات الرقمية.
💬 موثوقة من قبل أكبر منصّة لتداول العملات الرقمية في العالم.
👍 اكتشف الرؤى الحقيقية من صنّاع المُحتوى الموثوقين.
البريد الإلكتروني / رقم الهاتف
خريطة الموقع
تفضيلات ملفات تعريف الارتباط
شروط وأحكام المنصّة