جاپان کے مرکزی بینک، بینک آف جاپان (BOJ)، نے اپنی پالیسی شرح سود بڑھا کر 1 فیصد کر دی ہے، جو 1995 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جاپان بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کمزور جاپانی ین کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی معاشی دباؤ کے باعث مہنگائی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے شرح سود میں اضافہ کیا گیا تاکہ قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے اور کرنسی کو سہارا دیا جا سکے۔

فیصلے کے بعد جاپانی ین میں معمولی مضبوطی دیکھی گئی جبکہ جاپان کے اسٹاک انڈیکس نکی 225 میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ نے اس اقدام کو بڑی حد تک پہلے ہی قیمتوں میں شامل کر لیا تھا۔

کرپٹو سرمایہ کاروں کے لیے یہ خبر کیوں اہم ہے؟

عام طور پر جب کسی بڑی معیشت میں شرح سود بڑھتی ہے تو سرمایہ کار نسبتاً محفوظ سرمایہ کاری کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو اثاثوں میں سرمایہ کاری کا رجحان وقتی طور پر کم ہو سکتا ہے۔

شرح سود میں اضافے کا مطلب یہ بھی ہے کہ مارکیٹ میں سستی لیکویڈیٹی کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں رسک والے اثاثوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ ماہرین مختصر مدت میں کرپٹو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی توقع کر رہے ہیں۔

تاہم، یہ ضروری نہیں کہ اس خبر کا اثر طویل عرصے تک برقرار رہے۔ اگر عالمی معاشی حالات بہتر رہتے ہیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہتا ہے تو کرپٹو مارکیٹ دوبارہ مضبوطی دکھا سکتی ہے۔

مختصراً، بینک آف جاپان کا شرح سود 1 فیصد تک بڑھانا عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کا کرپٹو مارکیٹ پر قلیل مدتی دباؤ پڑ سکتا ہے، لیکن طویل مدتی سمت کا انحصار عالمی معاشی حالات اور سرمایہ کاروں کے رویے پر ہوگا۔

#SICryptoNews #BOJRaisesRateTo1% #bitcoin