Bank of Japan Raises Interest Rates to 1%: What It Means for Crypto Markets The Bank of Japan (BOJ) has raised its benchmark interest rate to 1%, marking the highest level since 1995. The move comes as Japan continues to deal with a weak yen and growing concerns about inflation. The decision was widely expected by economists, but it still represents a significant step in the BOJ’s ongoing effort to normalize monetary policy after years of extremely low interest rates. According to the central bank, rising energy costs and inflation pressures have increased the need for tighter monetary policy. By raising rates, the BOJ hopes to support the Japanese yen and keep inflation under control. #SICryptoNews #BOJRaisesRateTo1% $BTC
بینک آف جاپان نے شرح سود 1 فیصد کر دی، کرپٹو مارکیٹ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
جاپان کے مرکزی بینک، بینک آف جاپان (BOJ)، نے اپنی پالیسی شرح سود بڑھا کر 1 فیصد کر دی ہے، جو 1995 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جاپان بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کمزور جاپانی ین کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی معاشی دباؤ کے باعث مہنگائی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے شرح سود میں اضافہ کیا گیا تاکہ قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے اور کرنسی کو سہارا دیا جا سکے۔ فیصلے کے بعد جاپانی ین میں معمولی مضبوطی دیکھی گئی جبکہ جاپان کے اسٹاک انڈیکس نکی 225 میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ نے اس اقدام کو بڑی حد تک پہلے ہی قیمتوں میں شامل کر لیا تھا۔ کرپٹو سرمایہ کاروں کے لیے یہ خبر کیوں اہم ہے؟ عام طور پر جب کسی بڑی معیشت میں شرح سود بڑھتی ہے تو سرمایہ کار نسبتاً محفوظ سرمایہ کاری کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو اثاثوں میں سرمایہ کاری کا رجحان وقتی طور پر کم ہو سکتا ہے۔ شرح سود میں اضافے کا مطلب یہ بھی ہے کہ مارکیٹ میں سستی لیکویڈیٹی کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں رسک والے اثاثوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ ماہرین مختصر مدت میں کرپٹو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی توقع کر رہے ہیں۔ تاہم، یہ ضروری نہیں کہ اس خبر کا اثر طویل عرصے تک برقرار رہے۔ اگر عالمی معاشی حالات بہتر رہتے ہیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہتا ہے تو کرپٹو مارکیٹ دوبارہ مضبوطی دکھا سکتی ہے۔ مختصراً، بینک آف جاپان کا شرح سود 1 فیصد تک بڑھانا عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کا کرپٹو مارکیٹ پر قلیل مدتی دباؤ پڑ سکتا ہے، لیکن طویل مدتی سمت کا انحصار عالمی معاشی حالات اور سرمایہ کاروں کے رویے پر ہوگا۔ #SICryptoNews #BOJRaisesRateTo1% #bitcoin
Michael Saylor Predicts Bitcoin Could Rise From $70K to $7 Million Michael Saylor has once again sparked discussion across the crypto industry with one of his boldest Bitcoin forecasts yet. Speaking at BTC Prague 2026, the Strategy Executive Chairman suggested that Bitcoin could eventually climb from around $70,000 to as much as $7 million per coin. His comments come at a time when Bitcoin has recovered above $66,000 and market sentiment has started improving after weeks of uncertainty. #SICryptoNews #bitcoin $BTC
مائیکل سیلر کی بڑی پیش گوئی: کیا بٹ کوائن 70 ہزار ڈالر سے 70 لاکھ ڈالر تک جا سکتا ہے؟
کرپٹو دنیا میں ایک بار پھر مائیکل سیلر کی جانب سے ایک جرات مندانہ پیش گوئی نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ BTC Prague 2026 میں خطاب کرتے ہوئے سیلر نے کہا کہ بٹ کوائن کی قیمت مستقبل میں 70 ہزار ڈالر سے بڑھ کر 70 لاکھ ڈالر فی کوائن تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بٹ کوائن دوبارہ 66 ہزار ڈالر سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے اور مارکیٹ میں مثبت جذبات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ مائیکل سیلر ایسا کیوں سوچتے ہیں؟ سیلر کے مطابق بٹ کوائن ابھی بھی عالمی دولت کا بہت چھوٹا حصہ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 1000 ٹریلین ڈالر کا سرمایہ موجود ہے جبکہ بٹ کوائن کا حصہ صرف تقریباً 1 ٹریلین ڈالر ہے۔ ان کے خیال میں اگر بینک، پنشن فنڈز، ویلتھ مینیجرز اور انشورنس کمپنیاں بڑے پیمانے پر بٹ کوائن میں سرمایہ کاری شروع کر دیں تو بٹ کوائن کی مارکیٹ ویلیو کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ بٹ کوائن کا نیٹ ورک مستقبل میں 100 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں قیمت لاکھوں ڈالر فی کوائن تک جا سکتی ہے۔ ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں اضافہ مائیکل سیلر کی کمپنی Strategy نے حال ہی میں مزید 100 ملین ڈالر مالیت کا بٹ کوائن خریدا ہے۔ اس اقدام کو اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ بڑی کمپنیاں اور ادارے اب بھی بٹ کوائن پر بھرپور اعتماد رکھتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں بٹ کوائن ETFs، بٹ کوائن سے منسلک مالیاتی مصنوعات اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے مارکیٹ کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ کرپٹو مارکیٹ پر ممکنہ اثرات اگر ادارہ جاتی سرمایہ کاری کا رجحان جاری رہتا ہے تو بٹ کوائن کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف بٹ کوائن بلکہ دیگر بڑی کرپٹو کرنسیاں بھی فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ تاہم سرمایہ کاروں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ ایک طویل مدتی پیش گوئی ہے، نہ کہ فوری قیمت کا ہدف۔ کرپٹو مارکیٹ ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے اور کسی بھی سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق کرنا ضروری ہے۔ نتیجہ مائیکل سیلر کی 70 لاکھ ڈالر فی بٹ کوائن والی پیش گوئی نے ایک بار پھر کرپٹو کمیونٹی میں بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ یہ ہدف بہت بڑا لگتا ہے، لیکن سیلر کا ماننا ہے کہ عالمی سرمایہ کا ایک بڑا حصہ ابھی تک بٹ کوائن میں داخل نہیں ہوا۔ اگر مستقبل میں ادارہ جاتی اپنانے کی رفتار بڑھتی ہے تو بٹ کوائن کی ترقی کا سفر ابھی بہت طویل ہو سکتا ہے۔ #SICryptoNews #Bitcoin❗ #btc
Solana Institute Warns Senate Against Weakening the CLARITY Act The debate over crypto regulation in the United States continues to intensify as the Solana Institute urges lawmakers to preserve key protections included in the CLARITY Act. Kristin Smith, President of the Solana Institute, recently emphasized that blockchain developers, validators, and node operators who do not hold customer funds should not be treated as money transmitters under U.S. law. According to Smith, these participants provide software and network infrastructure rather than directly managing user assets. #SICryptoNews #solana $BTC $SOL $BNB
سولانا انسٹیٹیوٹ نے امریکی سینیٹ کو CLARITY Act کمزور نہ کرنے کی وارننگ دے دی
کرپٹو انڈسٹری میں ریگولیشن کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سولانا انسٹیٹیوٹ نے امریکی سینیٹ پر زور دیا ہے کہ وہ CLARITY Act میں شامل اہم قانونی تحفظات کو برقرار رکھے اور ان میں کسی قسم کی کمزوری نہ آنے دے۔ سولانا انسٹیٹیوٹ کی صدر کرسٹن اسمتھ کے مطابق، بلاک چین ڈویلپرز، ویلیڈیٹرز اور نوڈ آپریٹرز جو صارفین کے فنڈز کو اپنی تحویل میں نہیں رکھتے، انہیں منی ٹرانسمیٹرز کے طور پر درجہ بند نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے افراد اور ادارے بنیادی طور پر نیٹ ورک اور سافٹ ویئر انفراسٹرکچر فراہم کرتے ہیں، نہ کہ صارفین کے اثاثوں کا براہ راست انتظام۔ اسمتھ نے مزید کہا کہ اگر CLARITY Act میں موجود Blockchain Regulatory Certainty Act (BRCA) کی شقیں برقرار رہتی ہیں تو اس سے اوپن سورس ڈویلپرز اور بلاک چین نیٹ ورکس کو قانونی وضاحت ملے گی۔ اس کے نتیجے میں امریکہ میں جدت اور ترقی کے لیے بہتر ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، قانون سازی کے عمل میں مختلف رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔ امریکی سینیٹ میں بل کے مختلف حصوں پر بحث جاری ہے، جبکہ کچھ قانون ساز اس میں مزید تبدیلیاں بھی چاہتے ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر بل کی منظوری کا متوقع وقت جولائی سے بڑھ کر اگست تک پہنچ گیا ہے۔ CLARITY Act کا مقصد کرپٹو مارکیٹ کے لیے واضح قواعد متعین کرنا ہے۔ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو بٹ کوائن اور ایتھیریم جیسی ڈی سینٹرلائزڈ کرپٹو کرنسیز کے لیے ریگولیٹری فریم ورک مزید واضح ہو جائے گا، جس سے سرمایہ کاروں اور کمپنیوں دونوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ کرپٹو مارکیٹ کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ خبر مثبت سمجھی جا رہی ہے۔ اگر BRCA کے تحفظات برقرار رہتے ہیں تو سولانا سمیت متعدد بلاک چین نیٹ ورکس کے لیے امریکہ میں کام کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ اس سے نئی سرمایہ کاری، جدت اور ترقی کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ واضح اور متوازن قوانین ہی امریکہ کو عالمی کرپٹو مقابلے میں مضبوط پوزیشن دلا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سنگاپور اور ابو ظہبی جیسے خطے بلاک چین کمپنیوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب سب کی نظریں امریکی سینیٹ پر ہیں، جہاں آنے والے ہفتوں میں CLARITY Act کے مستقبل کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ #SICryptoNews #solana $BTC
Are Stablecoins and Tokenization the Real Drivers of the Next Crypto Bull Market?
For years, Bitcoin has been the dominant force in the cryptocurrency market. Whenever a new bull cycle began, Bitcoin was usually the first asset investors looked at. However, recent discussions among financial advisors suggest that the industry may be entering a new phase.
According to Bitwise Chief Investment Officer Matt Hougan, conversations with more than 40 financial advisory teams managing a combined $175 trillion in assets revealed a noticeable shift in interest. While confidence in crypto remains strong, many advisors are now paying closer attention to stablecoins, tokenization, and real-world blockchain applications rather than focusing solely on Bitcoin. #SICryptoNews $BTC $ETH
کیا اگلا کرپٹو بُل رن بٹ کوائن کے بجائے Stablecoins اور Tokenization کی وجہ سے آئے گا؟
کرپٹو مارکیٹ میں ایک دلچسپ تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کئی سالوں تک بٹ کوائن کو کرپٹو انڈسٹری کا سب سے اہم اثاثہ سمجھا جاتا رہا، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ بڑے مالیاتی ادارے اور سرمایہ کاری کے مشیر اپنی توجہ دوسرے شعبوں کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔ Bitwise کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر میٹ ہوگن کے مطابق، حال ہی میں ان کی ملاقات 40 سے زائد مالیاتی مشیروں سے ہوئی جن کے زیر انتظام مجموعی اثاثوں کی مالیت تقریباً 175 ٹریلین ڈالر ہے۔ ان ملاقاتوں سے یہ بات سامنے آئی کہ ادارہ جاتی سرمایہ کار اب صرف بٹ کوائن میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ Stablecoins، Tokenization اور بلاک چین کے عملی استعمال کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ ماضی میں کرپٹو مارکیٹ کی بحالی مختلف عوامل کی وجہ سے ہوئی۔ 2014 کے بعد Ethereum نے نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی، 2018 کے بعد DeFi نے مارکیٹ کو نئی سمت دی، جبکہ 2022 کے بعد Spot Bitcoin ETFs نے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو کرپٹو مارکیٹ کی طرف راغب کیا۔ اب ماہرین کا خیال ہے کہ اگلا ترقی کا مرحلہ Stablecoins اور Tokenization سے جڑا ہو سکتا ہے۔ Stablecoins وہ ڈیجیٹل اثاثے ہیں جن کی قیمت عموماً کسی روایتی کرنسی جیسے امریکی ڈالر سے منسلک ہوتی ہے۔ دوسری طرف Tokenization حقیقی دنیا کے اثاثوں جیسے جائیداد، بانڈز یا شیئرز کو بلاک چین پر منتقل کرنے کا عمل ہے۔ اسی وجہ سے Ethereum، Solana، Chainlink، Avalanche اور Hyperliquid جیسے منصوبے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ Circle، Coinbase اور Figure جیسی کمپنیاں بھی اس بڑھتے ہوئے رجحان سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کرپٹو انڈسٹری پہلے کے مقابلے میں زیادہ پختہ ہو رہی ہے۔ اب سرمایہ کار صرف قیمتوں میں اضافے کی امید پر سرمایہ کاری نہیں کر رہے بلکہ وہ ایسی ٹیکنالوجیز تلاش کر رہے ہیں جو حقیقی دنیا کے مسائل حل کر سکیں۔ اگر ادارہ جاتی سرمایہ کار اسی رفتار سے Stablecoins اور Tokenization کی طرف آتے رہے تو ممکن ہے کہ اگلا کرپٹو بُل رن صرف بٹ کوائن کے گرد نہ گھومے بلکہ پورا بلاک چین ایکو سسٹم اس کا فائدہ اٹھائے۔ مختصر طور پر، کرپٹو مارکیٹ کا مستقبل شاید پہلے سے زیادہ متنوع ہو، جہاں کامیابی صرف بٹ کوائن نہیں بلکہ متعدد بلاک چین نیٹ ورکس اور ان سے وابستہ کاروباروں کے حصے میں بھی آئے۔ #SICryptoNews #bitcoin #altcoins
Global politics and the cryptocurrency market are becoming more connected than ever. That is why former U.S. President Donald Trump's latest statement regarding a potential deal with Iran has caught the attention of Bitcoin investors around the world. According to Trump, a permanent agreement with Iran could be signed soon. He described the deal as a step toward preventing nuclear escalation and bringing more stability to the Middle East. He also claimed that the Strait of Hormuz would remain open for global trade after the agreement, an important factor for energy markets and international shipping. #SICryptoNews #bitcoin $BTC
بریکنگ نیوز: ایران ڈیل اور بٹ کوائن میں ممکنہ تیزی
عالمی سیاست اور کرپٹو مارکیٹ کا تعلق پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے اعلان نے بٹ کوائن سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک مستقل معاہدہ جلد سائن کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کا مقصد خطے میں استحکام پیدا کرنا اور جوہری ہتھیاروں کے خطرات کو روکنا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدے کے بعد ہرمز آبنائے تمام ممالک کے لیے کھول دی جائے گی، جو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ کرپٹو مارکیٹ اس خبر پر اس لیے گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ ماضی میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے بٹ کوائن کی قیمت کو متاثر کیا تھا۔ جب جنگی خدشات بڑھے تو سرمایہ کاروں میں خوف پیدا ہوا اور مارکیٹ دباؤ کا شکار ہوئی۔ لیکن جب جنگ بندی اور امن کی خبریں سامنے آئیں تو بٹ کوائن نے تیزی سے ریکوری دکھائی۔ اگر یہ معاہدہ واقعی سائن ہو جاتا ہے تو مختصر مدت میں مارکیٹ کا اعتماد بہتر ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کا خوف کم ہو سکتا ہے اور بٹ کوائن سمیت دیگر کرپٹو اثاثوں میں خریداری بڑھ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے تجزیہ کار اس خبر کو ایک ممکنہ مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم صرف ایک سیاسی معاہدہ بٹ کوائن کی طویل مدتی سمت کا فیصلہ نہیں کرے گا۔ ETF فنڈز میں سرمایہ کاری، عالمی معاشی حالات اور سرمایہ کاروں کی مجموعی دلچسپی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ اگر ان عوامل سے بھی مثبت سگنلز ملتے ہیں تو بٹ کوائن مزید مضبوط ریکوری دکھا سکتا ہے۔ فی الحال مارکیٹ اگلے چند دنوں میں آنے والی سرکاری تصدیق کا انتظار کر رہی ہے۔ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ کرپٹو مارکیٹ کے لیے بھی ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
SpaceX IPO Highlights Growing Corporate Adoption of Bitcoin, Says Michael Saylor Bitcoin received another major vote of confidence this week as Michael Saylor described SpaceX’s public market debut as an important milestone for corporate Bitcoin adoption. In a post shared on June 13, the Strategy chairman congratulated Elon Musk and SpaceX on their highly anticipated IPO. Saylor noted that with Tesla and SpaceX holding Bitcoin on their balance sheets, around 25% of the so-called “Mag 8” technology giants now have exposure to Bitcoin. #SICryptoNews #bitcoin $BTC $SPCXB $TSLAB
SpaceX IPO کے بعد Bitcoin کو بڑی کامیابی، مائیکل سیلر کا بڑا دعویٰ
Bitcoin کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ معروف Bitcoin حامی اور Strategy کے چیئرمین مائیکل سیلر نے SpaceX کے IPO کو Bitcoin کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔ 13 جون کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری اپنے بیان میں مائیکل سیلر نے ایلون مسک اور SpaceX کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اب "Mag 8" کہلانے والی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے 25 فیصد کے بیلنس شیٹ پر Bitcoin موجود ہے۔ سیلر کا اشارہ Tesla اور SpaceX کی جانب تھا، جو دونوں ایلون مسک سے منسلک کمپنیاں ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق SpaceX کے پاس تقریباً 18,712 Bitcoin موجود ہیں جبکہ Tesla تقریباً 11,509 Bitcoin کی مالک ہے۔ دونوں کمپنیوں کے مجموعی ذخائر 30,000 سے زیادہ Bitcoin بنتے ہیں۔ SpaceX کا حالیہ IPO سرمایہ کاروں کے لیے انتہائی دلچسپی کا باعث بنا۔ کمپنی کے شیئرز نے مارکیٹ میں زبردست آغاز کیا اور ابتدائی دن میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا۔ اس کامیابی نے نہ صرف SpaceX کی مقبولیت کو ظاہر کیا بلکہ Bitcoin کے بڑھتے ہوئے ادارہ جاتی استعمال کو بھی نمایاں کیا۔ دوسری جانب کارپوریٹ دنیا میں Bitcoin کی قبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر کی 199 پبلک کمپنیاں مجموعی طور پر تقریباً 1.26 ملین Bitcoin رکھتی ہیں جن کی مالیت 80 ارب ڈالر سے زیادہ بنتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے خزانے میں Bitcoin شامل کرتی ہیں تو اس سے مارکیٹ میں اعتماد بڑھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ کمپنیاں Bitcoin کو ایک طویل مدتی اثاثے کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو آنے والے سالوں میں Bitcoin کی کارپوریٹ اپنائیت مزید تیزی سے بڑھ سکتی ہے، جو پوری کرپٹو انڈسٹری کے لیے مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
Humanity Protocol Blames North Korea-Linked Hackers for $36 Million Crypto Theft The cryptocurrency industry has once again been shaken by a major security incident. Humanity Protocol has revealed that hackers believed to be linked to North Korea were responsible for stealing approximately $36 million worth of H tokens. According to the project's investigation, the attack was not caused by a vulnerability in smart contracts or blockchain infrastructure. Instead, the breach occurred after attackers gained access to critical private keys stored on a compromised developer machine. #SICryptoNews #bitcoin $BTC
Humanity Protocol نے 36 ملین ڈالر کی چوری کا الزام شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز پر لگا دیا
کرپٹو انڈسٹری ایک بار پھر ایک بڑے سیکیورٹی حادثے کی زد میں آ گئی ہے۔ Humanity Protocol نے انکشاف کیا ہے کہ تقریباً 36 ملین ڈالر مالیت کے H ٹوکنز کی چوری کے پیچھے ممکنہ طور پر شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز کا ہاتھ ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق حملہ آوروں نے کسی اسمارٹ کانٹریکٹ یا بلاک چین کی کمزوری کا فائدہ نہیں اٹھایا، بلکہ ایک ڈویلپر کے متاثرہ کمپیوٹر کے ذریعے اہم پرائیویٹ کیز تک رسائی حاصل کی۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ ایک ڈویلپر کا کمپیوٹر میلویئر سے متاثر تھا۔ اسی ڈیوائس میں سات اہم پرائیویٹ کیز محفوظ تھیں جو غلطی سے مین نیٹ لانچ کے دوران بیک اپ کے طور پر رہ گئی تھیں۔ ان کیز میں ایڈمن والیٹ اور مختلف ملٹی سگنیچر اکاؤنٹس کی رسائی شامل تھی۔ ان چوری شدہ کیز کی مدد سے ہیکرز نے مکمل طور پر جائز نظر آنے والی ٹرانزیکشنز انجام دیں اور تقریباً 141 ملین H ٹوکنز Ethereum Bridge سے منتقل کر لیے۔ بعد ازاں مزید ٹوکنز BNB Smart Chain پر منٹ کیے گئے اور بڑی مقدار میں اثاثے ETH میں تبدیل کر دیے گئے۔ اس واقعے کے بعد مارکیٹ میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ H ٹوکن کی قیمت چند گھنٹوں میں 80 سے 90 فیصد تک گر گئی، جس سے سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اگرچہ بعد میں قیمت میں کچھ بحالی دیکھی گئی، لیکن ٹوکن اب بھی اپنی سابقہ سطح سے کافی نیچے ٹریڈ کر رہا ہے۔ سائبر سیکیورٹی کمپنی Quantstamp کا کہنا ہے کہ اس حملے میں استعمال ہونے والے طریقے ماضی میں شمالی کوریا سے منسلک ہیکنگ گروپس کی سرگرمیوں سے ملتے جلتے ہیں۔ تاہم بعض آزاد محققین کا کہنا ہے کہ ریاستی سطح پر ملوث ہونے کے دعوے کی مزید تصدیق کی ضرورت ہے۔ یہ واقعہ ایک اہم سبق دیتا ہے کہ صرف بلاک چین اور اسمارٹ کانٹریکٹس کو محفوظ بنانا کافی نہیں۔ اگر پرائیویٹ کیز اور اندرونی سسٹمز محفوظ نہ ہوں تو اربوں ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ کرپٹو انڈسٹری میں بڑھتے ہوئے سائبر حملے اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ سیکیورٹی ہر پروجیکٹ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
Can Solana Return to Its Highs? All Eyes on the $68 Level Solana (SOL) is back in the spotlight after showing signs of recovery following a sharp market correction. While the broader crypto market has faced increased volatility, Solana has managed to regain some strength, giving investors a reason to watch the asset closely once again. Earlier this month, Solana dropped to around $61 after trading near $96 in May. The decline wiped out more than one-third of its value in a short period, largely due to market-wide selling pressure, whale activity, and the liquidation of leveraged positions. #SICryptoNews #solana $SOL $BTC
کیا سولانا دوبارہ بلندیوں کی طرف جا رہا ہے؟ 68 ڈالر کی سطح پر سب کی نظریں
کرپٹو مارکیٹ میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے باوجود سولانا (SOL) نے ایک بار پھر سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں شدید دباؤ کا شکار رہنے والا سولانا اب بحالی کے آثار دکھا رہا ہے، جس سے مارکیٹ میں نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ جون کے آغاز میں سولانا کی قیمت تقریباً 61 ڈالر تک گر گئی تھی، جبکہ مئی میں یہ تقریباً 96 ڈالر کی سطح پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔ اس طرح صرف چند دنوں میں قیمت میں 36 فیصد سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی۔ اس گراوٹ کی بڑی وجوہات میں مارکیٹ کی مجموعی کمزوری، بڑے سرمایہ کاروں کی فروخت اور لیوریج پوزیشنز کی جبری بندش شامل تھیں۔ تاہم اب صورتحال کچھ مختلف نظر آ رہی ہے۔ سولانا نے 61 ڈالر کے قریب مضبوط سپورٹ حاصل کی اور وہاں سے 10 فیصد سے زیادہ ریکوری کرتے ہوئے تقریباً 67 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ تکنیکی تجزیے کے مطابق چارٹ پر ایک "فالنگ ویج" پیٹرن بن رہا ہے، جسے عام طور پر مثبت اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مختصر مدت کے چارٹ پر ایک "ایسینڈنگ ٹرائنگل" بھی نظر آ رہا ہے، جو قیمت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کرتا ہے۔ اس وقت سب سے اہم سطح 68 ڈالر ہے۔ اگر سولانا اس ریزسٹنس کو کامیابی سے عبور کر لیتا ہے تو اگلا ہدف 70 ڈالر اور اس کے بعد 76 ڈالر ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹریڈرز اور سرمایہ کار اس سطح کو بہت غور سے دیکھ رہے ہیں۔ دوسری جانب کچھ ماہرین ابھی بھی محتاط ہیں۔ ان کے مطابق مکمل بُلش ٹرینڈ کی تصدیق کے لیے سولانا کو 72.57 ڈالر سے اوپر جانا ہوگا۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، مارکیٹ میں خطرات موجود رہیں گے اور قیمت دوبارہ 60 ڈالر کے سپورٹ ایریا کا رخ بھی کر سکتی ہے۔ مختصر طور پر، سولانا ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ آیا یہ کرپٹو کرنسی دوبارہ اوپر کی جانب مضبوط سفر شروع کرتی ہے یا مزید دباؤ کا سامنا کرتی ہے۔