ٹیسلا پائے‘: ’سولر چارجنگ اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ سے منسلک‘ موبائل فون جو حقیقت سے ابھی کافی دور ہے
اگر آپ کے پاس ایک ایسا فون ہو جسے آپ جیب میں ڈالیں اور وہ خود بخود ہی چارج ہو جائے، اس کا رابطہ مریخ اور چاند سے بھی ہو اور اس پر سیٹلائٹ انٹرنیٹ چلے جو کبھی بند نہ ہو۔۔۔
یہ سُن کر آپ کے ذہن میں کسی سائنس فکشن فلم کا نقشہ بنا ہو گا، لیکن ایسے فون کا وجود نہ تو کوئی حقیقت نہیں اور نہ ہی کسی ٹیکنالوجی کمپنی نے مستقبل قریب میں ایسا کوئی ڈیوائس مارکیٹ میں متعارف کروانے کی بات کی ہے۔
یقیناً آپ بھی چاہیں گے کہ آئے روز کی چارجنگ کے جھنجھٹ اور انٹرنیٹ کے کمزور سگنلز جیسے مسائل سے آپ کی جان چھوٹ جائے، پاکستان میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بھی اکثر صارفین یہی چاہتے ہیں کیونکہ ایسے ہی فیچرز والے ایک افسانوی فون کا چرچا واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آج کل دیکھنے کو مل رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر دعویٰ یہ کیا جا رہا ہے کہ یہ معروف امریکی گاڑیاں بنانے والی کمپنی ’ٹیسلا‘ کی جانب سے بنایا گیا ایک فون ہے جس میں یہ تمام جدید ترین فیچرز موجود ہیں اور یہ جلد مارکیٹ میں موجود ہو گا ۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ایک صارف نے اس فون کی تصاویر بھی لگائیں اور لکھا کہ ’ایلون مسک ٹیسلا پائے نامی فون سنہ 2024 کے اختتام پر لانچ کر رہے ہیں اور اس میں دو ایسے فیچرز ہیں جو کسی دوسری موبائل کمپنی کے پاس نہیں ہیں۔ ایک تو اس فون کو چارجنگ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے کیونکہ یہ سورج کی روشنی سے خود بخود چارج ہو جاتا ہے اور اگر یہ آپ کی جیب میں بھی موجود ہو تو یہ چارج ہوتا رہے گا۔ دوسرا اسے انٹرنیٹ کنیکشن کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ایلون مسک کے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سٹارلنک کے ساتھ منسلک ہو جاتا ہے۔۔۔‘
خیال رہے کہ ٹیسلا کے بانی ایلون مسک کی اس کے علاوہ بھی متعدد کمپنیاں ہیں جن میں سٹار لنک، نیورالنک، سپیس ایکس، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس سمیت دیگر شامل ہیں۔
کہتے ہیں کہ ایک امریکی ریاست میں ایک بوڑھے شخص کو ایک روٹی چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا، اس نے بجائے انکار کے اعتراف کیا کہ اُس نے چوری کی ہے اور جواز یہ دیا کہ وہ بھوکا تھا اور قریب تھا کہ وہ مر جاتا ! جج کہنے لگا '' تم اعتراف کر رہے ہو کہ تم چور ہو ،میں تمہیں دس ڈالر جرمانے کی سزا سُناتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ تمہارے پاس یہ رقم نہیں اسی لیے تو تم نے روٹی چوری کی ہے ،لہٰذا میں تمہاری طرف سے یہ جرمانہ اپنی جیب سے ادا کرتا ہوں ''مجمع پر سناٹا چھا جاتا ہے، اور لوگ دیکھتے ہیں کہ جج اپنی جیب سے دس ڈالر نکالتا ہے اور اس بوڑھے شخص کی طرف سے یہ رقم قومی خزانے میں جمع کرنے کا حکم دیتا ہےپھر جج کھڑا ہوتا ہے اور حاضرین کو مخاطب کر کےکہتا ہے '' میں تمام حاضرین کو دس دس ڈالر جرمانے کی سزا سُناتا ہوں اس لیے کہ تم ایسے ملک میں رہتے ہو جہاں ایک غریب کو پیٹ بھرنے کے لیے روٹی چوری کرنا پڑی ''اُس مجلس میں 480 ڈالر اکھٹے ہوئے اور جج نے وہ رقم بوڑھے '' مجرم '' کو دے دی۔ کہتے ہیں کہ یہ قصہ حقیقت پر مبنی ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں غریب لوگوں کی مملکت کی طرف سے کفالت اسی واقعے کی مرہون منت ہے ( سیدنا عمر رضی اللّه عنہ چودہ سو سال پہلے ہی یہ کام کر گئے کہ پیدا ہوتے ہی بچے کا وظیفہ جاری کرنے کے حکم دےدیا) کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ ہمارے ١٠(دس) روپے ہمارے لئے اتنی اھمیت نہیں رکھتے جتنے کہ اس لاچار کے لئے رکھتے ہیں جو جانے کب سے بھوکا ہے۔۔۔ تبدیلی کے لیئے ہمیں خود کو بدلنا ہے۔۔ آئیے مل کر ہم سب بھی اپنی سوچ بدلیں۔۔ کسی کی خوشی کا موجب بننا ہی سب سے بڑی خوشی ہے۔۔۔ #WEFDavos2026 #TrumpCancelsEUTariffThreat #WhoIsNextFedChair #BTCVSGOLD $BTC
امریکہ ایران کے معاملے میں دنیا کو دھوکا دیتا نظر آرہا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے عراق کے معاملے میں بھی امریکہ نے دنیا کو دھوکا دیا تھا۔ ابھی قطر پر ازرا یلی حملے کے وقت بھی قطر کو امریکہ نے ہی دھوکا دیا تھا۔
افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلا کر دنیا کو یہ تاثر دیا کہ وہ افغانستان سے نکل گیا ہے مگر ہر ہفتے اسی طالبان حکومت کو ڈالر دے رہا ہے جس سے 20 سال لڑتا رہا۔
شام میں الشرح کی حکومت بنوانے میں بھی یہ ہی رول ادا کیا ادھر شام میں۔ حکومت بدلی ادھر ازرا یل نے شام کے اہم حصوں پر قبضہ کر لیا جو وہ بشار الاسد کے دور میں نہیں کر سکا تھا۔
کرنل قذافی کے ساتھ بھی یہ ہی کیا۔ اور اب مشرق وسطیٰ میں بھی ایران کے معاملے میں۔ دھوکا نظر آرہا ہے۔
مشرقی وسطیٰ میں نیٹو ممالک کی نقل و حرکت شروع نیٹو بہت تیزی سے خطے میں اپنے طیارے منتقل کر رہا ہے۔
جرمنی، فرانسیسی اور برطانوی فورسز کے یورو فائٹر طیارے قبرص میں اکروتیری (Akrotiri) اڈے اور اردن کے مفرق السلطان ایئر بیس کی جانب تعینات کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
اگرچہ امریکہ ایران پر حملے کے ارادے کی تردید کر رہا ہے، تاہم نیٹو کی فضائی نقل و حرکت اس کے برعکس اشارے دے رہی ہے۔
اب پاکستان جو بہت محتاط رہنا ہو گا۔ گو چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر نے امریکہ میں کھڑے ہو کر کہہ دیا تھا کہ اگر ہم ڈوبنے لگے تو آدھی دنیا کو لیکر ڈوبے گے۔ امریکہ اس کھلی دھمکی کے باوجود کہیں نہ کہیں پاکستان کو ضرور نشانہ بنائے گا۔ کیونکہ گزشتہ 8 مہینے میں پاکستان نے ہر مقام پر امریکہ کو نیچا دیکھایا ہے۔ خواہ وہ انڈیا کو بارڈر کو۔ بنگلہ دیش ہو۔ نیپال ہو یا پھر ایران پر امریکی حملہ اس کے علاؤہ سعودی عرب کو امریکہ سے توڑنا لیبیا مصر اور اردن کو پاکستان کے ساتھ کھڑا کرنا بھی امریکہ کیلئے ناگوار ہے۔ یمن سے ازرا یلی پروکسی کی شکست سوڈان میں ازرا یلی مفاد کے خلاف جانا۔ اور اب ایران میں امریکہ کی جیتی جیتائی جنگ میں امریکہ کو پسپا کرنا وہ سارے اقدامات ہیں جو پاکستان فرنٹ فٹ پر جا کر کر رہا ہے۔ اس لئے یہ بات ذیہن رکھ لیں امریکہ دنیا میں کچھ بھی کرے اصل نشانہ پاکستان ہی ہے۔ الحمدوللہ اس وقت پاکستان کی فوجی قیادت سارے معاملے کو سمجھتی ہے پاکستان نے ہر حوالے سے پورا پورا بندوبست کیا ہوا ہے۔ اب صرف پاکستان کی عوام کو بہادری سے پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہونا یے۔ فتح ان شاءاللہ پاکستان کی ہی ہو گی۔ #گمـــــــنــــام_مارخــــــــــور 🇵🇰💪💪 #TrumpTariffsOnEurope #StrategyBTCPurchase #USJobsData $BTC
ایک شخص کی بیوی کا انتقال ہو گیا۔ گھر میں صفِ ماتم بچھی ہوئی تھی۔ رشتہ دار، دوست، پڑوسی سب جمع تھے۔ کوئی کہہ رہا تھا: “بہت نیک خاتون تھیں۔” کوئی بول رہا تھا: “اللہ صبر دے، بڑا نقصان ہو گیا۔”
سب کی آنکھوں میں آنسو تھے… سوائے شوہر کے۔
وہ ایک کونے میں خاموش بیٹھا تھا۔ چہرہ سنجیدہ، آنکھیں خشک۔ دل ہی دل میں پریشان تھا: “یہ کیا مصیبت ہے! آنسو ہی نہیں نکل رہے۔ لوگ کیا کہیں گے؟ کہیں یہ نہ سمجھ لیں کہ مجھے بیوی کا دکھ ہی نہیں؟”
وہ بار بار آنکھیں رگڑتا، اوپر دیکھتا، گہری سانسیں لیتا… مگر آنسو جیسے ہڑتال پر تھے۔
اسی دوران ایک صاحب اس کے پاس آ کر بڑے غور سے بولے: “بھائی، ایک بات پوچھوں؟”
وہ بولا: “جی پوچھیں…”
اس آدمی نے آہستہ سے کہا: “اگر… فرض کریں… کوئی قدرت کا کرشمہ ہو جائے اور آپ کی بیوی دوبارہ زندہ ہو جائے تو…؟”
یہ سنتے ہی شوہر پر جیسے بجلی گر گئی!
اچانک اس کے منہ سے ایسی چیخ نکلی کہ “ہائے اللہ نہ کرے! یا اللہ رحم! یہ کیا کہہ دیا تم نے!!! وہ اس زور سے رویا، چیخیں ماریں، کہتے ہیں اُس کے رونے کی آواز مریخ تک سنائی دیں# #interesting #Amazing #fun #کہتے ہیں اُس کے رونے کی آواز مریخ تک سنائی دیں# #interesting #Amazing #fun #funny
، امریکہ میں ہوتی ہیں ،کبھی کبھی پاکستان آتی ہیں ۔ کراچی میں ایک کتاب گھر تھا ۔ نام اُس کا پائنیر بک ہاوس تھا ، یہ سو سال پرانا تھا ۔ مگر تباہ ہو چکا تھا ، کوئی یہاں سے کتاب نہیں خریدتا تھا ۔ کتاب گھر کا مالک مکمل طور پر بیزار ہو چکا تھا ، وہ اُسے بیچنے کے لیے تیار تھا اور کتابوں کو خدا حافظ کہنے والا تھا ۔ دوکان تین منزلہ تھی ۔ اور ایسی نایاب جگہ پر اورنایاب طرز میں تعمیر ہوئی تھی کہ اللہ اللہ اور سبحان اللہ ۔ مگر وہاں گاہکوں کی نایابی کے باعث دکان کچرے کباڑ کا ڈھیر ہو گئی تھی۔ ایسے میں کسی نے ڈان میں اُس کے متعلق ایک آرٹیکل لکھا کہ سو سال پرانی دکان بند ہونے جا رہی ہے ۔ وہ آرٹیکل امریکہ میں بیٹھی منیزہ نقوی نے پڑھا ، منیزہ امریکہ سے کراچی پہنچی ، دکان کی حالت دیکھی اور بے چین ہو گئی ۔ دکاندار نہایت مایوسی اور نامرادی کی حالت میں تنہا بیٹھا دل سے گریہ کر رہا تھا ۔ منیزہ نے اُس کو سلام بلایا ،جس کا اُس نے کوئی جواب نہ دیا ۔ وہ کچھ دیر وہاں بیٹھ کر وآپس چلی آئی ۔ اگلے دن پھر گئی ۔ دکان دار نے اُسے بیزاری سے دیکھا ۔ منیزہ نے کہا ، اگر آپ ناراض نہ ہوں تو مَیں آپ کی دکان میں جھاڑو دے کر کچھ گرد صاف کر دوں ؟ وہ خاموش رہا ، منیزہ نے اُس کی خاموشی کو اجازت سمجھا اور دکان میں صفائی کرنے لگی ، دکان دار خموش اُسے دیکھتا رہا اور ایک بات زبان سے نہیں کی ۔ دکان بہت بڑی تھی ۔ منیزہ شام تک صفائی کرتی رہی ۔ دوسرے دن پھر چلی گئی ، تیسرے دن بھی گئی ۔ اِس طرح منیزہ نقوی نے دکان میں پندرہ دن تک جھاڑ پونجھ کر کے اُسے صاف کیا ۔ اِس عرصے میں وہ دکان دار اُس سے کچھ کچھ بات کرنے لگا تھا ۔جب دکان صاف ہو گئی تو منیزہ نے ایک دن اُسے کہا ، اگر آپ کچھ دن صبر کریں اور اِس دکان کو بند نہ کریں تو ہم اِسے چلا کر دیکھتے ہیں ،اللہ کرے گا چل ہی جائے گی ۔ وہ اِس بات پر بھی خموش ہو گیا ،منیزہ نے اِس کو بھی اثبات جانا اور اُسے چلانے کے درپے ہوئیں ۔ کچھ نئی طرز کی چھوٹی کرسیاں خرید لائی ، دو چار نئی میزیں اور اسٹول خرید لائی ۔ ایک دو لیمپ لے آئی اور اِن سب چیزوں کو اُس نے اُوپر کی منزل میں رکھ دیا تاکہ لوگوں کو یہاں بیٹھ کر چائے پینے اور گپ شپ کرنے کو مناسب جگہ میسر ہو ۔ اُس کے بعد اپنے دوست احبا ب کو وہاں لے جا کر دکھانا شروع کر دیا ۔ اور اُنھیں تحریک دینے لگی کہ وہاں جائیں اور کتابیں خریدیں ۔ ایک دن مَیں کراچی میں تھا کہ منیزہ نے مجھے کہا ناطق ،تمھیں ایک دکان پر لے کر جانا ہے ، رستے میں اُس نے مجھے بہت کچھ باتیں بتائیں کہ کس طرح اُسے اِس دکان اور دکان والے کی کسمپرسی کا پتا چلا اور وہ کیسے یہاں پہنچی اور کس کس طرح اُس نے دکان بحال کرنے کی کوشش کی ۔ ہم دکان پر پہنچے ۔ مَیں نے دیکھا دکان نہایت کسمپرسی کا شکار تھی ، کوئی کتاب وہاں ڈھنگ کی نہیں تھی ۔ کوئی گاہک نہیں تھا ۔ منیزہ نے مجھے دکان کے تینوں پورشن دکھائے ، واللہ میں نے جانا اگر اِسے کارآمد کیا جائے تو کراچی والے شاعروں ادیبوں کے لیے اِس سے بہتر اجلاس کرنے کو کوئی جگہ نہیں تھی ۔ لیکن برباد ہو رہی تھی ۔ دکان کو اچھی طرح سے دیکھ کر ہم نیچے آگئے اور دکان دار کے پاس کاونٹر پر بیٹھ گئے ۔ ہم بیٹھے ہی تھے کہ دو لوگ وہاں آئے ۔ یہ حیدر آباد سے کراچی آئے تھے ۔ اُنھوں نے کچھ ادبی کتابوں کا پوچھا ، اوروہاں پڑی ہوئی چند کتابوں میں سے تین چار کتابیں خرید لیں ۔ دو کتابیں میری بھی خریدیں جو منیزہ پہلے ہی آکسفورڈ فیسٹول کراچی کے کتابوں کے اسٹال سے خرید کر وہاں رکھ چکی تھی ۔ ایک کتاب مَیں نے خود خریدی ۔ اُس کے بعد وہ دونوں لوگ بھی وہاں بیٹھ گئے ۔ منیزہ نے مجھے کہا ناطق آپ اپنی ایک نظم سفیرِ لیلٰی سناو ۔ اتنے میں اُسی دکاندار کے چہرے پر رونق کے آثار نمودار ہوئے ۔ اُس نے ساتھ والی چائے کی دکان سے چائے کا آرڈر دیا ۔ مَیں نے نظم پڑھنا شروع کی ۔ تمام لوگوں پر ایک سحر طاری ہو گیا ۔ نظم سُننے اور چائے پینے کے بعد وہ دونوں لوگ وہاں سے چلے گئے ۔ دکان دار نے ہم سے خاطب کر کے کہا ، آج ایک مہینے بعد گاہک میری دکان پر آئے ہیں ۔ اللہ جانے اِس میں کیا حکمت ہے اور یہ جو کتابیں خرید کر لے گئے ہیں واللہ یہ پچھلے دس سال سے یہاں پڑی ہیں کسی نے اِنھیں ہاتھ تک نہیں لگایا ۔ خیر اُس کے بعد مَیں وہاں سے چلا آیا ۔مجھے اسلام آباد وآپس آنا تھا ۔ منیزہ نے اب یہ معمول بنا لیا کہ لوگوں کو پکڑکر وہاں لے جانے لگی اور دکان کی تشہیر شروع کر دی ۔ علاوہ اِس کے اپنے پلے سے دکان کی رینوویشن بھی شروع کی۔ مَیں نے لاہور آ کر ایک پبلشر سے کہا کہ وہاں میری کتابوں سمیت اپنی تمام کتابیں سیل ایںڈ ریٹرن پر بھیجے ، اُس نے میری بات پر عمل کیا ۔ اُدھر منیزہ نقوی نے بھی مخلتف پبلشروں سے کتابیں منگوانا شروع کیں ۔ یوں دکان کی ایک نئی صورت بنتی چلی گئی ۔ میری کئی کتابیں وہاں بکنا شروع ہو گئیں ۔ اور آج اُس دکان نے اللہ کے کرم سے اپنی معاشی حیثیت مستحکم کر لی ہے ۔ وہ دکان یہی ہے ، یہی وہ منیزہ نقوی ہے جسے کوئی لالچ نہیں سوائے اِس کے کہ ایک کتابوں کی دکان بند نہ ہو جائے۔اور یہی وہ دکاندار ہے جس کے چہرے پر کبھی مسکراہٹ نہیں آئی تھی ۔ منیزہ نقوی اللہ ہی آپ کو اِس کا اجر دے گا ۔ نیچے دکان کی موجودہ حالت ہے میری کراچی والوں سے استدعا ہے وہ اِس دکان سے کتابیں خریدنا اپنا معمول بنائیں ۔اور اپنے ادبی اجلاس بھی یہیں کیا کریں #MarketRebound #BTC100kNext? #USJobsData #BinanceHODLerBREV
پرانے وقتوں کی بات ہے ایک گاؤں میں ایک آسودہ حال شخص رہا کرتا تھا۔ اس کا جانوروں کا باڑہ تھا وہ جانوروں کا دودھ بیچتا، گھی، مکھن بیچتا۔ مال و دولت کی فراوانی تھی۔
پھر ایک دن اس کے جانوروں میں ایک ایسی بیماری آئی کہ ایک ایک کر کے سب جانور مر گئے۔ وہ بہت پریشان ہوا، وہ خوشحال تھا گھر میں کافی مال جمع تھا۔ روزمرہ کے اخراجات کے لیے وہ مال استعمال ہونے لگا رفتہ رفتہ گھر کی تمام قیمتی اشیاء بک گئی اور بات فاقوں تک آگئی۔
وہ بہت پریشان تھا ایک دن اس کی بیوی نے اسے کہا کہ دوسرے گاوں کا سردار تمہارا دوست ہے، تم اس کے پاس جاؤ اور اسے اپنی پریشانی بتاؤ اور مدد کا کہو۔
یہ بات اس کے دل کو لگی اگلے ہی دن وہ صاف ستھرا لباس پہن کے دوسرے گاوں اپنے دوست سے ملنے چلا گیا۔ اس کا دوست اسے دیکھ کے بہت خوش ہوا، اس کی خوب آؤ بھگت کی۔ اس شخص نے دوست سے کہا میں تمہارے پاس کسی کام سے آیا ہوں۔ مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے، پھر اس نے اپنے تمام حالات کے بارے میں دوست کو بتایا۔
یہ سب سن کے دوست کہنے لگا، کوئی مسئلہ نہیں میں تمہاری مدد ضرور کروں گا۔
پھر اس نے اپنے ملازم کو آواز دی اور کہا میرے دوست کے لیے ایک بکری لے آو۔ اور اس شخص کو تاکید کی یہ بکری لے جاو اگر دوبارہ میری مدد کی ضرورت پڑے تو پھر میرے پاس چلے آنا۔ اس کے ساتھ اس نے اس شخص کے بیوی بچوں کے لیے کچھ تحائف بھی ساتھ کر دیے۔
وہ شخص کافی حیران ہوا کہ دوست علاقے کا سردار ہے اور مجھے صرف ایک بکری پہ ٹرخا رہا ہے۔خیر وہ بکری لے کے چپ چاپ گھر آ گیا اس کی بیوی بھی صرف ایک بکری دیکھ کے حیران ہوئی۔
وہ لوگ بکری کا دودھ نکال کے پیتے رہے کچھ دودھ بیچ دیتے۔ کسی نا کسی حد تک بھوک مٹنے لگی ایک ماہ گزرا وہ بکری مر گئی دونوں میاں بیوی بہت پریشان ہوئے بیوی نے پھر یاد دلایا دوست نے کہا تھا ضرورت پڑے تو دوبارہ آ جانا۔
وہ پھر سے دوست کے پاس گیا۔ دوست نے خوب آؤ بھگت کی، مدعا پوچھا، اس شخص نے بتایا کہ وہ بکری مر گئی، دوست نے کہا کوئی مسئلہ نہیں، ملازم کو بلایا ایک بکری اور منگوائی اور اس شخص کو باعزت طریقے سے اس تاکید کے ساتھ روانہ کیا کہ جب ضرورت پڑے میرے پاس چلے آنا۔
وہ شخص بکری لے کے گھر آیا بکری کا دودھ پیا اور بیچا... کچھ عرصے بعد یہ بکری بھی مر گئی وہ پھر دوست کے پاس گیا مدعا بتایا، دوست نے آؤ بھگت کی، کھانا کھلایا، ایک اور بکری، دوبارہ واپس آنے کی تاکید کے ساتھ روانہ کیا۔
وہ گھر آیا بکری کا دودھ نکالا بیچا اس بار دودھ اتنا تھا کہ دودھ بیچ کے زیادہ اچھی رقم آنے لگی۔ یہ شخص سمجھدار تھا، اس نے بچت کر کے ایک اور بکری خرید لی اللہ نے اس کو برکت دی۔ اس کے حالات بہتر ہونے لگے، وہ جانور خریدنے لگا، اس کے گھر خوشحالی پھر سے آنے لگی۔
ایک دن اس کی بیوی نے اسے یاد دلایا کہ یہ سب تمہارے دوست کی مدد کی وجہ سے ہوا ہے تم جاؤ اور اپنے دوست کا شکریہ ادا کر کے آو۔
اگلے دن وہ شخص تیار ہوا اور خوشی خوشی دوست کی طرف روانہ ہوگیا۔ دوست اس کو دیکھ کے بہت خوش ہوا اس کی خوب آؤ بھگت کی اور آنے کا مدعا پوچھا، اس نے دوست کا شکریہ ادا کیا اور اسے بتایا کہ اس کی مدد کی وجہ سے اس کے حالات پہلے سے بہت بہتر ہو گئے ہیں جس کے لیے وہ اس کا شکریہ ادا کرنے آیا ہے۔
یہ سن کے دوست بہت خوش ہوا، اس نے اپنے ملازمین کو بلایا اور کہا کے باڑے سے 50 جانور کھولو اور اس شخص کے ساتھ جا کے اس کے گھر چھوڑ کے آؤ۔
وہ شخص بہت حیران ہوا کہ کہ جب شدید برا وقت تھا تو صرف ایک بکری اور جب حالات بہتر ہونے لگے ہیں تو 50 جانور، اگر یہ پچاس جانور اس وقت دے دیتا تو وہ کب کا سنبھل چکا ہوتا، اس سے رہا نہیں گیا دوست کے سامنے اس نے اپنے دل کی بات کر دی۔
یہ سن کے دوست مسکرایا اور کہنے لگا، "جب تم پہلی بار آئے تھے، تو میں سمجھ گیا تھا تم پہ وقت برا ہے، اس وقت میں تمہیں سو جانور بھی دیتا تو وہ سب بھی مر جاتے۔ اس لیے میں نے تمہیں ایک بکری دی تاکہ تمہارا گزارہ چلتا رہے۔ جب تک تمہارا برا وقت چلتا رہا میں تمہیں ایک بکری دیتا رہا۔ اب جب تمہارا برا وقت ٹل چکا ہے، خوشحالی تمہارے دروازے پر پھر سے دستک دے رہی ہے تو میرا فرض ہے، میں تماری مدد اپنی دوستی کے شایان شان کروں، اب مجھے کوئی ڈر نہیں ہے یہ سب جانور تمہارے کام آئیں گے۔"
یہ سن کے وہ شخص بہت خوش ہوا اور اپنے دوست کی حکمت کا قائل ہو گیا۔
حاصل سبق کہ زوال پذیر دوستوں کو برے وقت میں اکیلا مت چھوڑیں لیکن ان کی مدد حکمت کے ساتھ کرنی چاہیے۔ یعنی ان پر برا وقت آیا ہو تو فوری طور پر انہیں اتنی ہی مدد دو جس سے ان کا گزر بسر چل سکے اور وہ سہارا پا سکیں، لیکن اتنی بڑی مدد مت دو کہ وہ ضائع ہو جائے یا ان کے لیے نقصان دہ ہو۔
جب ان کا برا وقت ٹل جائے اور وہ سنبھلنے لگیں، تب انہیں دل کھول کر مدد دو تاکہ وہ مضبوطی سے کھڑے ہو جائیں اور خوشحالی میں واپس آ جائیںں ــــــــــــــــــــــــــ$SOL ۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ #زائپس #ZIPES #MarketRebound #BTC100kNext?
ایک شخص کہتا ہے میں جہاز سے اترا اور کسٹم سے گزر کر ٹیکسی لینے سٹینڈ کیطرف چلا۔جب میرے پاس ایک ٹیکسی رکی تو مجھے جو چیز انوکھی لگی وہ گاڑی کی چمک دمک تھی اس کی پالش دور سے جگمگا رہی تھی ٹیکسی سے ایک سمارٹ ڈرائیور تیزی سے نکلا اسنے سفید شرٹ اور سیاہ پتلون پہنی ہوئی تھیجو کہ تازہ تازہ استری شدہ لگ رہی تھی۔اس نے صفائی سے سیاہ ٹائی بھی باندھی ہوئی تھی۔ وہ ٹیکسی کی دوسری طرف آیا اور میرے لئے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا۔ اس نے ایک خوبصورت کارڈ میرے ہاتھ میں تھمایا اور کہا ’سر جب تک میں آپ کا سامان ڈگی میں رکھوں، آپ میرا مشن سٹیٹ منٹ پڑھ لیں۔ میں نے آنکھیں میچ لیں۔ یہ کیا ہے؟ میرا نام سائیں ہے،آپ کا ڈرائیور۔ میرا مشن ہے کہ مسافروں کو سب سے مختصر، محفوظ اور سستے رستے سے ان کی منزل تک پہنچاؤں اور ان کو مناسب ماحول فراہم کروں میرا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ میں نے آس پاس دیکھا تو ٹیکسی کا اندر بھی اتنا ہی صاف تھا جتنا کہ وہ باہر سے جگمگا رہی تھی۔اس دوران وہ اسٹئرنگ سنبھال چکا تھا۔ ’سر آپ کافی یا چائے پینا چاہیں گے۔ آپ کے ساتھ ہی دو تھرماس پڑے ہوئے ہیں جن میں چائے اور کافی موجود ہے‘۔ میں نے مذاق میں کہا کہ نہیں میں تو کوئی کولڈ ڈرنک پیوں گا۔ وہ بولا ’سر کوئی مسئلہ نہیں۔ میرے پاس آگے کولر پڑا ہوا ہے۔ اس میں کوک، لسی، پانی اور اورنج جوس ہے۔ آپ کیا لینا چاہیں گے؟ میں نے لسی کا مطالبہ کیا اور اس نے آگے سے ڈبہ پکڑا دیا۔میں نے ابھی اسے منہ بھی نہیں لگایا تھا کہ اس نے کہا سر اگر آپ کچھ پڑھنا چاہیں تو میرے پاس اردو اور انگریزی کے اخبار موجود ہیں‘۔ سر میں نے ائر کنڈیشنر لگا دیا ہے۔ بتائیے گا کہ ٹمپریچر زیادہ یا کم ہو تو آپ کی مرضی کے مطابق کردوں‘۔اس کے ساتھ ہی اس نے رستے کے بارے میں بتا دیا کہ اس وقت کس رستے پر سے وہ گزرنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ اس وقت وہاں رش نہیں ہوتا۔ پھر بڑی پتے کی بات پوچھی سر اگر آپ چاہیں تو رستے سے گزرتے ہوئے میں آپ کو اس علاقے کے بارے میں بھی بتا سکتا ہوں اور اگر آپ چاہیں تو آپ اپنی سوچوں میں گم رہ سکتے ہیں وہ شیشے میں دیکھ کر مسکرایا میں نے پوچھا سائیں، کیا تم ہمیشہ سے ایسے ہی ٹیکسی چلاتے رہے ہو؟ اس کے چہرے پر پھر سے مسکراہٹ آئی۔ نہیں سر، یہ کچھ دو سال سے میں نے ایسا شروع کیا ہے. اس سے پانچ سال قبل میں بھی اسی طرح کڑھتا تھا جیسے کہ دوسرے ٹیکسی والے کڑھتے ہیں۔ میں بھی اپنا سارا وقت شکایتیں کرتے گزارا کرتا تھا۔ پھر میں نے ایک دن کسی سے سنا کہ سوچ کی طاقت کیا ہوتی ہے۔ یہ سوچ کی طاقت ہوتی ہے کہ آپ بطخ بننا پسند کریں گے کہ عقاب۔ اگر آپ گھر سے مسائل کی توقع کرکے نکلیں گے تو آپ کا سارا دن برا ہی گزرے گا۔ بطخ کی طرح ہر وقت کی ٹیں ٹیں سے کوئی فائدہ نہیں، عقاب کی طرح بلندی پر اڑو تو سارے جہاں سے مختلف لگو گے۔ یہ بات میرے دماغ کو تیر کی طرح لگی اور اس نے میری زندگی بدل دی۔ میں نے سوچا یہ تو میری زندگی ہے۔ میں ہر وقت شکایتوں کا انبار لئے ہوتا تھا اور بطخ کی طرح سے ٹیں ٹیں کرتا رہتا تھا۔ بس میں نے عقاب بننے کا فیصلہ کیا۔ میں نے ارد گرد دیکھا تو تمام ٹیکسیاں گندی دیکھیں۔ ان کے ڈرائیور گندے کپڑوں میں ملبوس ہوتے تھے۔ ہر وقت شکایتیں کرتے رہتے تھے اور مسافروں کے ساتھ جھگڑتے رہتے تھے۔ ان کے مسافر بھی ان سے بے زار ہوتے تھے۔ کوئی بھی خوش نہیں ہوتا تھا۔ بس میں نے خود کو بدلنے کا فیصلہ کیاپہلے میں نے چند تبدیلیاں کیں۔ گاڑی صاف رکھنی شروع کی اور اپنے لباس پر توجہ دی۔ جب گاہکوں کی طرف سے حوصلہ افزائی ملی تو میں نے مزید بہتری کی۔ اور اب بھی بہتری کی تلاش ہے۔ میں نے اپنی دلچسپی کے لئے پوچھا کہ کیا اس سے تمہاری آمدنی پر کوئی فرق پڑا؟ ’سر بڑا فرق پڑا۔ پہلے سال تو میری انکم ڈبل ہوگئی اور اس سال لگتا ہے چار گنا بڑھ جائے گی۔ اب میرے گاہک مجھے فون پر بک کرتے ہیں یا ایس ایم ایس کرکے وقت طے کرلیتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اب مجھے ایک اور ٹیکسی خریدنی پڑے گی اور اپنے جیسے کسی بندے کو اس پر لگانا پڑے گا۔ یہ سائیں تھا۔ $BTC اس نے فیصلہ کیا کہ اسے بطخ نہیں بننا بلکہ عقاب بننا ہے۔ کیا خیال ہے، اس ہفتے سے عقاب کا سفر نہ شروع کیا جائے؟ سائیں نے مجھے ایک نیا فلسفہ دیا۔ سوچ بدلو ۔ زندگی بدلو ۔ 🌹🌹🌹 وہ جو کسی نے کہا ہے نا کہ کوئی بھی پانی میں گرنے سے نہیں مرتا۔مرتا وہ اس وقت ہے جب وہ اس مشکل سے نکلنے کے لیۓ ہاتھ پاؤں نہیں مارتا ہے.🌹🌹🌹 $ETH
، جو خود کو شہنشاہ (بادشاہوں کا بادشاہ) کہلواتا تھا، اپنی بیوی کے ساتھ بستر پر پڑا ہوا، موت کا انتظار کر رہا ہے۔ مصری مصنف محمد حسنین ہیکل اپنی کتاب "مدافعِ آیات اللہ" میں لکھتے ہیں کہ ایران کے بادشاہ محمد رضا پہلوی، خمینی انقلاب کے بعد جب ملک سے فرار ہوا، تو ایک ملک سے دوسرے ملک بھٹکتا رہا۔ کوئی بھی ملک اسے خوش دلی سے قبول کرنے کو تیار نہ تھا۔ اس کے قیام کی ایک منزل پانامہ بھی تھی، مگر وہاں بھی حالات تنگ ہو گئے اور بالآخر پانامہ نے بھی شاہ اور اس کے خاندان سے ملک چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا۔ اس نازک وقت میں اس کی بیوی فرح دیبا نے اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے، عالمی مہاجرین کمیشن کے سربراہ آغا خان سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ شاہ اور اس کے خاندان کے لیے ایسی سفری دستاویزات فراہم کی جائیں، جن کی مدد سے وہ آزادانہ طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکیں۔ جب جواب آنے میں تاخیر ہوئی اور پانامہ میں قیام کی مدت ختم ہونے کے قریب آ پہنچی، تو فرح دیبا نے ایک رات دیر گئے دوبارہ فون کیا۔ وہ رو رہی تھی اور کہہ رہی تھی: "ہم اس وقت کسی بھی کاغذ کے شدید محتاج ہیں، جس کی بنیاد پر ہم پانامہ سے نکل سکیں۔ براہِ کرم ہمیں کوئی بھی دستاویز دے دیجیے، چاہے وہ صرف مہاجرین کی دستاویز ہی کیوں نہ ہو!" ذرا اس ذلت کو دیکھیے، جس کا سامنا اس عورت کو کرنا پڑا۔ کوئی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ ’ ’ ایران کی ملکہ‘‘ جس کے سر پر سونے کا تاج سجا ہوتا تھا اور جس تاج میں دنیا کا سب سے قیمتی جواہر جڑا ہوا تھا، ایک دن پناہ گزین کی دستاویز کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو جائے گی! یہ اللہ کی مشیت ہے کہ بادشاہ کو بھکاری بنا دے۔ اس لیے تکبر نہیں کرنا چاہئے۔ موت کے بعد انسان کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں ہوتی کہ وہ مٹی کے کیڑوں کی خوراک بن جائے۔ تاریخ میں عبرت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: فاقصصِ القصص لعلّهم يتفكّرون "قصے بیان کرو، شاید کہ وہ غور و فکر کریں۔" (سورۃ الاعراف: آیت 176) #WriteToEarnUpgrade #USJobsData
وہ ایک ٹائپنگ کی غلطی پر نوکری سے نکال دی اور وہی غلطی اسے 5۔47 ملین ڈالر دے گئی۔
ایک عورت اپنی میز پر بیٹھی آنسو روکنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ اس کا نام بیٹی نیسمتھ گراہم تھا۔ وہ ایک طلاق یافتہ، اکیلی ماں تھی۔ ہائی اسکول چھوڑ چکی تھی۔ تین سو ڈالر ماہانہ میں اپنے چھوٹے بیٹے کی پرورش کر رہی تھی۔ ہر تنخواہ اس کے لیے زندگی کی ڈور تھی۔ ہر کارکردگی رپورٹ اس کے لیے خطرے کی گھنٹی۔ اور ایک سچ جو وہ دل میں دبائے رکھتی تھی: وہ ایک بہت خراب ٹائپسٹ تھی۔ نئے IBM الیکٹرک ٹائپ رائٹر بے رحم تھے۔ ایک غلط بٹن دب جائے تو پوری شیٹ دوبارہ لکھنی پڑتی۔ کبھی کئی کئی صفحات۔ کاربن ربن مٹانے پر پھیل جاتا۔ غلطی کا کوئی علاج نہیں تھا۔ سوائے دوبارہ شروع کرنے کے۔ ہر غلطی اسے یہ احساس دلاتی کہ شاید وہ یہاں کی نہیں۔ ہر ٹائپو اس کی نوکری کے خاتمے کا اعلان لگتا۔ وہ لمحہ جو کسی اور نے محسوس نہیں کیا ایک دسمبر کی دوپہر، تھکی ہوئی اور پریشان، بیٹی نے بینک کی کھڑکی سے باہر دیکھا۔ کچھ آرٹسٹ شیشے پر کرسمس کی سجاوٹ بنا رہے تھے۔ ان سے بھی غلطیاں ہو رہی تھیں۔ لکیریں ٹیڑھی ہو جاتیں۔ شکلیں بگڑ جاتیں۔ مگر وہ گھبراتے نہیں تھے۔ وہ بس اس غلطی پر دوبارہ پینٹ کر دیتے اور آگے بڑھ جاتے۔ اور اسی خاموش لمحے میں ایک خطرناک خیال اس کے ذہن میں آیا۔ وہ اپنی غلطیاں ٹھیک کیوں کر سکتے ہیں، اور میں نہیں؟ ایک کچن کا تجربہ جس نے تاریخ بدل دی اسی رات اپنے چھوٹے سے کچن میں بیٹی نے بلینڈر نکالا۔ اس نے پانی میں گھلنے والا پینٹ ملایا اور اسے بینک کے کاغذ کے رنگ جیسا بنایا۔ اسے نیل پالش کی بوتل میں ڈالا۔ ایک باریک واٹر کلر برش لیا۔ اگلے دن وہ اسے چھپ کر دفتر لے آئی۔ پہلی ٹائپو پر اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے پینٹ لگایا۔ انتظار کیا۔ وہ بالکل سوکھ گیا۔ صاف۔ غائب۔ نظر نہ آنے والا۔ اس کے باس کو کچھ پتا نہ چلا۔ لیکن دوسری سیکریٹریوں نے دیکھ لیا۔ وہ سرگوشیاں کرنے لگیں۔ پوچھنے لگیں۔ مانگنے لگیں۔ جلد ہی بیٹی ہر رات اپنے کچن میں بوتلیں تیار کرنے لگی۔ اس کا بیٹا مائیکل اور اس کے دوست بوتلیں بھرنے میں مدد کرتے۔ انہیں ایک ڈالر فی گھنٹہ ملتا۔ اس نے اس کا نام رکھا: Mistake Out وہ برطرفی جو آزادی بن گئی 1957 تک وہ ماہانہ سو بوتلیں بیچ رہی تھی۔ 1958 میں اس نے نام بدل کر رکھا: Liquid Paper اور پیٹنٹ کروا لیا۔ ایک آفس سپلائی میگزین نے اس پر مضمون چھاپا۔ پانچ سو آرڈرز آ گئے۔ جنرل الیکٹرک نے سینکڑوں بوتلیں منگوائیں۔ بیٹی دو نوکریاں کر رہی تھی۔ اور پھر تھکن نے اسے آ لیا۔ ایک دن بینک میں خط ٹائپ کرتے ہوئے اس کا دھیان اپنے بزنس میں چلا گیا۔ لاعلمی میں اس نے باس کے نام کے بجائے اپنے کمپنی کا نام سائن کر دیا۔ اسی وقت نوکری ختم۔ اکثر لوگ ٹوٹ جاتے۔ بیٹی نے کچھ اور محسوس کیا۔ آزادی۔ نہ باس۔ نہ چھپانے کی ضرورت۔ نہ اجازت مانگنے کا جھنجھٹ۔ اس نے سب کچھ اپنے بزنس پر لگا دیا۔ شرمندگی سے طاقت تک اس نے فارمولا بہتر بنایا۔ کلائنٹس بنائے۔ ڈسٹری بیوشن قائم کی۔ 1962 میں اس نے رابرٹ گراہم سے شادی کی جو کمپنی میں شامل ہو گیا۔ 1968 میں ڈلاس میں جدید فیکٹری قائم ہوئی۔ 1975 تک ہر سال پچیس ملین بوتلیں دنیا بھر میں فروخت ہونے لگیں۔ پھر دھوکہ ہوا۔ اس کے شوہر نے کمپنی ہتھیانے کی کوشش کی۔ اسے باہر نکال دیا۔ فارمولا بدل کر اس کے حقوق ختم کرنا چاہے۔ بیٹی نے ہار نہیں مانی۔ اس نے اپنا 49 فیصد حصہ بچایا۔ طلاق لی۔ اور جیت گئی۔ وہ سودا جس کی کسی کو امید نہ تھی 1979 میں بیٹی نیسمتھ گراہم نے Liquid Paper کمپنی Gillette کو فروخت کر دی۔ قیمت: 47.5 ملین ڈالر جو عورت کبھی بلوں پر روئی تھی، وہ امریکہ کی امیر ترین خودساختہ خواتین میں شامل ہو گئی۔ مگر وہ عیش و آرام میں گم نہیں ہوئی۔ اس نے خواتین کے لیے بزنس اور آرٹ کے ادارے قائم کیے۔ ایسے دفاتر بنائے جہاں بچوں کی دیکھ بھال، لائبریری اور عزت موجود ہو۔ اس نے ثابت کیا کہ منافع اور انسانیت ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ پیسے سے بڑی میراث 12 مئی 1980 کو، کمپنی فروخت کرنے کے صرف چھ ماہ بعد، بیٹی فالج کی پیچیدگیوں سے دنیا سے رخصت ہو گئی۔ عمر: 56 سال اس کا بیٹا مائیکل اس کی دولت کا وارث بنا۔ آپ اسے دی مونکیز بینڈ کے مائیک نیسمتھ کے نام سے جانتے ہیں۔ وہ بعد میں کہتا تھا میری ماں نے لاکھوں سیکریٹریوں کی زندگیاں آسان بنا دیں۔ اور آج بھی یہ ستم ظریفی گونجتی ہے: جو عورت ایک غلطی پر نکالی گئی وہی غلطی اس کی سلطنت بن گئی۔ جو سیکریٹری ناکام کہلائی اس نے دنیا کے دفاتر بدل ڈالے۔ جو ماں تین سو ڈالر میں گزارا کر رہی تھی اس نے اپنی قسمت خود لکھی۔ یہ کہانی سفید پینٹ کی بوتل کی نہیں۔ یہ کہانی ہے ہار ماننے سے انکار کی۔ یہ کہانی ہے کمزوری کو طاقت بنانے کی۔ یہ کہانی ہے اجازت مانگنے کے بجائے حل تخلیق کرنے کی۔ جس غلطی نے اسے نکالا اسی نے اسے آزاد کیا۔ اس نے صرف ٹائپو نہیں مٹائے۔ اس نے اپنی پوری زندگی دوبارہ لکھ دی۔ ایک برش اسٹروک کے ساتھ۔
یمن کے ایک شہر میں بوسیدہ لباس میں کوئی مستانہ وار جارہا ہے
شہر کے آوارہ بچے اس کے پیچھے تالیاں بجاتے اور آوازے کستے چلے آرہے ہیں، بچوں نے کنکر بھی مارنا شروع کردیئے۔ لیکن حیرت ہے کہ یہ فقیر کنکریاں مارنے والوں کو نہ روکتا ہے نہ ٹوکتا ہے۔ مسکراتے اور زیر لب گنگناتے وہ اپنی دھن میں چلا جارہا ہے۔ اچانک کسی جانب سے ایک بڑا پتھر اس کے سر سے آٹکراتا ہے۔ زخم سے خون کی ایک پتلی سے لکیر جب پیشانی کو عبور کرنے لگتی ہے تو وہ رک جاتا ہے۔ پھرپتھر مارنے والے بچوں کی طرف رخ کرکے کہتا ہے۔ میرے بچو بڑے پتھر نہ مارو چھوٹی کنکریاں مار کر دل بہلاتے رہو۔ بس ایک ہی پتھر سے اندیشہ اتر گیا۔ ایک منہ پھٹ لڑکا آگے بڑھتے ہوئے کہتا ہے۔
نہیں میرے بیٹے ایسی کوئی بات نہیں۔ میں چاہتا ہوں تمہارا شغل جاری رہے اور میرا کام بھی چلتا رہے۔ کنکریوں سے خون نہیں بہتا۔ پتھر لگنے سے خون بہنے لگتا ہے جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور بغیر وضو کے میں اپنے محبوب کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوسکتا۔یمن کے شہر قرن میں ایک کوچے سے گزرنے والے یہ درویش عشق و مستی کی سلطنت کے بادشاہ حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ تھے۔ کعبہ محبت کا طواف کرنے والوں کا جب بھی ذکر چھیڑے گا تو حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی سرفہرست رہے گا۔تذکرۃ الاولیاء میں یہ روایت درج ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے استفسار پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چشم ظاہری کی بجائے چشم باطن سے انہیں میرے دیدار کی سعادت حاصل ہے۔
محبوب کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی والہانہ محبت اور عاشقانہ اداؤں کو سنا تو تحسین فرمائی۔ روایات میں ہے کہ محبوب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی کبھی فرط محبت میں اپنے پیراہن کے بند کھول کر یمن کی طرف رخ کرکے فرماتے۔
انی لا جد نفس الرحمن من قبل اليمن.
مجھے یمن کی طرف سے رحمت کی خوشبو آرہی ہے۔ یہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ ہی تھے جن کی بدولت یمن سے نسیم رحمت فضاؤں کو معطر کرتی تھی۔ چنانچہ مولانا جامی اسے شعر کے قالب میں یوں بیان کرتے ہیں۔ بوئے جاں می آید از سوئے یمن از دم جاں پرور اویس قرن واللہ اعلم بالصواب ۔اگر کوئی غلطی کوتاہی ہو تو اللہ پاک معاف فرمائے۔
انڈیا کا خطے کا چوہدری بننے کا خواب بیچ چوراہے چکنا چور ہو گیا۔ ایران کی بندرگاہِ چابہار میں دس سالہ انتظامی حق کے باوجود جس کا ڈھنڈورا مودی حکومت نے 2024ء میں بڑی دھوم دھام سے پیٹا تھا نئی دہلی کو بالآخر خاموشی سے بوریا بستر سمیٹنا پڑا۔ سرکاری کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ (IPGL) کے تمام سرکاری نمائندوں کے اجتماعی استعفے اور ویب سائٹ کی اچانک عدم دستیابی اس سُرخ لکیر کی تصدیق کرتی ہے جسے واشنگٹن نے کھینچا اور دہلی نے فوراً تسلیم کر لیا۔ بھارت نے عجلت میں 120 ملین ڈالر کی واجب الادا رقم تو ادا کی، لیکن اس کے بعد مودی سرکار نے بندرگاہی معاہدے سے عملی لاتعلقی اختیار کر کے واضح کر دیا کہ ’’اسٹریٹیجک خودمختاری‘‘ کا دعویٰ صرف اندرونی سیاسی نعروں تک محدود ہے۔ کانگریس رہنما پون کھیڑا کا سوال “مودی نے امریکا کو بھارت کا بازو مروڑنے کیوں دیا؟” دراصل بھارتی خارجہ پالیسی کی خالی جیب کا اعلان ہے۔ یہ وہی مودی ہے جو کبھی ’’وکاس کا راہبر‘‘ بن کر ابھرا تھا، مگر آج عالمی اسٹیج پر محض ایک تابع دار کردار نبھا رہا ہے۔
چابہار سے بھارت کی پسپائی دراصل خطے میں پاکستان کی بحری و معاشی مرکزیت کو مزید مستحکم کرتی ہے۔ جہاں نئی دہلی امریکی منجنیق سے اچھل کر دور جا گرا ہے، وہیں سی پیک کے ذریعے گوادر پورٹ نہ صرف مکمل آپریشنل صلاحیت کی جانب بڑھ رہی ہے بلکہ وسطی ایشیاء اور مشرقِ وسطیٰ کو ملانے والا قابلِ اعتماد لینڈ بریج بھی بن چکی ہے۔ چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد سرمایہ کار گوادر کے انڈسٹریل زونز میں سرمایہ جھونک رہے ہیں یہ وہ حقیقت ہے جو عالمی منڈیوں میں پاکستان کی قدرِ بازاری کو روز بروز بڑھا رہی ہے۔
چابہار کو ’’گیم چینجر‘‘ کہنے والی بھارتی میڈیا اب مودی سرکار سے پوچھ رہی ہے کہ آخر ’’چوکیدار‘‘ نے بندرگاہ کی چوکیداری کیوں چھوڑ دی؟ روسی رعایتی تیل پر بھی واشنگٹن کی آنکھیں دکھانے پر دہلی نے بغلیں جھانکیں؛ اور اب ایران کے ساتھ یہ سبکی۔ صاف ظاہر ہے کہ اٹل کہی جانے والی بھارتی اسٹریٹیجک خودمختاری دراصل امریکی ہینڈل سے کنٹرول ہونے والا ایک جوائس اسٹک ہے۔
مودی حکومت کی چابہار سے ’’خاموش واپسی‘‘ نہ صرف بھارت کی خارجی ناکامی کا بین ثبوت ہے بلکہ جنوبی ایشیاء میں طاقت کے توازن کو بھی پاکستان کے حق میں جھکاتی ہے۔ سی پیک اور گوادر کی برق رفتار ترقی، عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد اور واشنگٹن کا بھارت پر بڑھتا ہوا اقتصادی دباؤ یہ سب اشارہ دیتے ہیں کہ مستقبل قریب میں خطے کی معاشی شاہراہوں پر پاکستان کا جھنڈا زیادہ نمایاں ہو گا۔
مودی سرکار اگر واقعی ’’عظیم بھارت‘‘ کا خواب دیکھتی ہے تو اسے چاہئے کہ ہوائی قلعے بنانے کی بجائے حقیقتِ حال کو تسلیم کرے: امریکی پابندیوں کے سائے میں کھڑے ہو کر ’’عالمی لیڈر‘‘ نہیں بنا جا سکتا۔ دوسری طرف پاکستان نے ثبوت دے دیا ہے کہ مضبوط سفارت کاری، علاقائی ہم آہنگی اور معاشی کھلے پن ہی وہ عوامل ہیں جو کسی بھی ملک کو عالمی نقشے پر باوقار مقام دلاتے ہیں۔ گوادر کی گہری گودیوں سے لے کر بلوچستان کی شاہراہوں تک پاکستان اپنا راستہ خود تراش رہا ہے، جب کہ دہلی امریکی اشاروں پر قدم لڑکھڑا رہا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے آنے والے برسوں میں دنیا واضح طور پر دیکھے گی۔
Trump’s bluffs: Why US strike on Iran remains real threat From Venezuela and Iran, Trump has attacked countries in the past when diplomacy appeared to be working. After threatening to attack Iran for days in support of protesters challenging the government in Tehran, United States President Donald Trump appeared to dial back the rhetoric on Wednesday evening.
The killings in Iran, Trump said, had stopped, adding that Tehran had told his administration that arrested protesters would not be executed. #Trump #Iran #Breakingnews #Greenland #BTC #BNB $BTC