میں دیکھ رہا ہوں کہ کرپٹو کی دنیا میں اب میری سوچ پہلے جیسی نہیں رہی۔ ایک وقت تھا جب میں ہر نئے منصوبے کو صرف اس لیے دلچسپی سے دیکھتا تھا کیونکہ وہ مختلف ہونے کا دعویٰ کرتا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ میں نے محسوس کیا کہ بڑے دعوے اکثر جلد خاموش ہو جاتے ہیں جبکہ اصل طاقت ان منصوبوں میں ہوتی ہے جو بغیر شور کیے اپنے مقصد پر کام کرتے رہتے ہیں۔ انہی دنوں میری نظر نیوٹن پروٹوکول پر گئی اور میں نے جلدی میں کوئی رائے قائم کرنے کے بجائے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ آخر اس خیال میں ایسی کیا بات ہے جو اسے دوسروں سے الگ بناتی ہے۔
مجھے ہمیشہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی بات کرنا آسان ہے لیکن اسے واقعی کسی مفید مقصد کے لیے استعمال کرنا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔ نیوٹن پروٹوکول کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں یہی خیال آیا کہ اگر خودکار نظام انسان کی مدد کریں تو یہ ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، لیکن اگر انسان اپنی سمجھ بوجھ کو مکمل طور پر ایک مشین کے حوالے کر دے تو شاید وہی چیز بعد میں کمزوری بن جائے۔ میں ٹیکنالوجی سے ڈرتا نہیں لیکن میں ہمیشہ یہ چاہتا ہوں کہ انسان کا فیصلہ آخری فیصلہ رہے۔ میرے نزدیک یہی توازن کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کو قابل اعتماد بناتا ہے۔
جس بات نے مجھے اس منصوبے کے بارے میں مزید سوچنے پر مجبور کیا وہ اس کا لیئر ٹو ڈھانچہ تھا۔ میں اکثر محسوس کرتا ہوں کہ زیادہ تر لوگ بلاک چین کی پیچیدگیوں میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہر کام آسانی سے ہو جائے، فیس کم ہو اور رفتار بہتر ہو۔ اگر کوئی منصوبہ ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو میرے خیال میں وہ صرف سرمایہ کاروں کے لیے نہیں بلکہ عام صارفین کے لیے بھی اہم بن سکتا ہے۔ نیوٹن پروٹوکول اسی سمت میں قدم بڑھاتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور یہی بات میری توجہ اپنی طرف کھینچتی ہے۔
اس کا نیوٹ ٹوکن بھی مجھے صرف خرید و فروخت کا ذریعہ محسوس نہیں ہوا۔ جب ایک ٹوکن نیٹ ورک کی فیس، اسٹیکنگ اور گورننس جیسے کاموں میں استعمال ہوتا ہے تو مجھے لگتا ہے کہ اس کی موجودگی کی ایک حقیقی وجہ بنتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کامیابی یقینی ہے، کیونکہ کرپٹو میں کوئی بھی چیز یقینی نہیں ہوتی، لیکن کم از کم یہ احساس ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس منصوبے کے پیچھے صرف وقتی جوش نہیں بلکہ ایک واضح سمت موجود ہے۔
اس وقت اس منصوبے کی مارکیٹ ویلیو ابھی نسبتاً کم ہے اور یہی بات مجھے محتاط بھی رکھتی ہے۔ میں نے کرپٹو میں ایک چیز سیکھی ہے کہ ہر چھوٹا منصوبہ بڑا نہیں بنتا، لیکن ہر بڑا منصوبہ کبھی نہ کبھی چھوٹا ضرور ہوتا ہے۔ اسی لیے میں ایسے منصوبوں کے بارے میں جلدی فیصلے نہیں کرتا۔ میں وقت کو دیکھتا ہوں، ترقی کو دیکھتا ہوں اور یہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ کیا یہ واقعی لوگوں کی زندگی آسان بنانے آیا ہے یا صرف چند دنوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے سامنے آیا ہے۔
میرے لیے نیوٹن پروٹوکول کی اصل اہمیت اس کی ٹیکنالوجی سے زیادہ اس سوچ میں ہے جو یہ پیش کرتا ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت اور بلاک چین ایک دوسرے کے ساتھ ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو شاید آنے والے برسوں میں ہم ایسے نظام دیکھیں گے جو صرف تیز نہیں بلکہ زیادہ سمجھ دار بھی ہوں گے۔ میں ابھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا، لیکن اتنا ضرور ہے کہ یہ منصوبہ مجھے بار بار واپس آ کر اسے دوبارہ دیکھنے پر مجبور کرتا ہے، اور میرے نزدیک یہی کسی بھی اچھے منصوبے کی پہلی کامیابی ہوتی ہے۔

